نائب وزیراعظم اور وزیر مقبوضہ امور و وزیر خارجہ اسحاق ڈار آج (بدھ کے روز) اردن میں بیت المقدس سے متعلق ایک اہم وزارتی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، کیونکہ مقبوضہ فلسطین اور مسجد اقصی کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر مسلم اور عرب ممالک نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس اعلیٰ سطحی سفارتی اجتماع میں خطے کے اہم اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں تاکہ فلسطینی عوام کے حقوق اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ اردن میں ہونے والے ان مذاکرات میں اسحاق ڈار کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان فلسطینی کاز کے حوالے سے اپنے دیرینہ اور غیر متزلزل موقف پر قائم ہے۔ مشرق وسطیٰ میں حالیہ دنوں کے دوران عبادت گزاروں پر پابندیوں اور جھڑپوں کے بعد سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے اس مؤقف کا حامی رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اس وقت تک ناممکن ہے جب تک قبلہ اول القدس الشریف کو دارالحکومت مانتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا۔

بیت المقدس مذاکرات اور سفارتی حکمت عملی

عمان میں منعقد ہونے والے اس وزارتی اجلاس کا مقصد عالمی برادری پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے والی یکطرفہ کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ عرب لیگ اور او آئی سی کے رکن ممالک اس بحران سے نمٹنے کے لیے اجتماعی سفارتی اقدامات پرغور کر رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اسحاق ڈار اجلاس کے دوران مختلف ہم منصب رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے جن میں غزہ کے لیے امداد کی ترسیل اور اقوام متحدہ کے فورمز پر مشترکہ مؤقف اپنانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

عام پاکستانی شہریوں کے لیے خارجہ پالیسی کی یہ پیشرفت اس بات کی عکاس ہے کہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ کے نازک امور پر مسلم دنیا کے ساتھ یکجہتی کا مظاہر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ ملکی سطح پر عوام کی توجہ معاشی چیلنجز اور مہنگائی پر مرکوز ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر او آئی سی جیسے پلیٹ فارمز پر پاکستان کی متحرک سفارت کاری اس کے خارجہ امور کا ایک لازمی حصہ ہے۔

آئندہ کیا دیکھنا ہوگا؟

دفتر خارجہ اسلام آباد کی جانب سے اردن کے اس اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے پر گہری نظر رکھیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کے نتیجے میں فلسطینی مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے سفارتی اور قانونی اقدامات کی سفارشات سامنے آ سکتی ہیں۔

آئندہ چند روز کے دوران بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور سرکاری بلیٹن کا جائزہ لیتے رہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ عمان کے ان مذاکرات کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی میں کیا پیشرفت ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے فلسطینی بھائیوں کے لیے مزید انسانی امداد کے اعلانات بھی متوقع ہیں۔