پاکستان اور کرغزستان نے ایک مشترکہ کاروباری کونسل قائم کرنے کا معاہدہ کیا ہے جس کا مقصد تین سالوں میں دو طرفہ تجارت کو 150 ملین ڈالر سے بڑھا کر 500 ملین ڈالر تک پہنچانا ہے۔ یہ اعلان جمعرات کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے کیا۔
یہ کونسل ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف عرفان شیخ اور کرغزستان کے چارج ڈی افیئرز ایبیک ٹلی بائیف کے مابین اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد طے پائی۔ دونوں فریقوں نے تجارت میں حائل رکاوٹوں، ٹیکسوں اور ٹیکسٹائل، زراعت اور توانائی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کی۔
- موجودہ تجارت کا حجم: 150 ملین ڈالر (2023-24)
- ہدف: 2027 تک 500 ملین ڈالر
- پہلی میٹنگ: 60 دن کے اندر بشکیک میں
- اہم شعبے: ٹیکسٹائل، زراعت، توانائی، ادویات
- ٹیکس میں کمی: کرغزستان پاکستانی ٹیکسٹائل پر ڈیوٹی کم کرے گا؛ پاکستان کرغزستان کی ادویات کی درآمدات آسان بنائے گا
کونسل ہر چھ ماہ بعد اسلام آباد اور بشکیک میں باری باری ملاقات کرے گی تاکہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور رکاوٹوں کا حل نکالا جا سکے۔ ایک مشترکہ ورکنگ گروپ 2024 کے آخر تک ایک تفصیلی تجارت روڈ میپ تیار کرے گا جس میں ترجیحی تجارت کے معاہدے اور سرمایہ کاری تحفظ کے اصول شامل ہوں گے۔
پاکستانی کاروباریوں کے لیے کیوں اہم ہے یہ معاہدہ
پاکستانی برآمد کنندگان، خاص طور پر ٹیکسٹائل، چاول اور سرجیکل سامان کے شعبوں میں، سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ کرغزستان، جو ایک زمین بند وسطی ایشیائی ملک ہے، یوریشین اکنامک یونین (ای ای یو) کے تحت قازقستان، ازبکستان اور تاجکستان کے منڈیوں تک رسائی کا ذریعہ ہے۔ پاکستانی کاروباری اب کرغزستان کے روس اور چین کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا فائدہ اٹھا کر 180 ملین سے زائد صارفین تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
- ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو کرغزستان میں پاکستانی کپاس اور تیار کپڑوں پر کم ٹیکسوں کی توقع ہے، جہاں سستی فیشن کی طلب بڑھ رہی ہے۔
- چاول اور گوشت کے پروڈوسرز کو کرغزستان کی بڑھتی ہوئی خوراک کی حفاظت کی ضروریات سے فائدہ ہوگا، جہاں مقامی پیداوار طلب کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
- ادویات کی کمپنیاں کرغزستان کو جنریک ادویات برآمد کر سکتی ہیں، جہاں صحت کی سہولیات میں توسیع ہو رہی ہے لیکن مقامی پیداوار محدود ہے۔
ایف پی سی سی آئی کا اندازہ ہے کہ کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کے بعد پاکستانی کاروباری اہم برآمدات پر 15 فیصد تک ٹیکسوں میں بچت کر سکیں گے۔ فیصل آباد میں ایک درمیانے درجے کے ٹیکسٹائل برآمد کنندہ کے لیے اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اگر تجارت کا حجم بڑھتا ہے تو سالانہ 20 سے 30 ملین روپے کا اضافی منافع ہو سکتا ہے۔
آگے چل کر چیلنجز: کون روکے گا اس معاہدے کو
تجارت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی کی رکاوٹیں اور بنیادی ڈھانچے کی کمی اس معاہدے کی پیش رفت کو سست کر سکتی ہے۔ کرغزستان کا کسٹمز کلیئرنس کا عمل بدنام ہے، اور پاکستان کا مرکزی ایشیائی لین دین پر پابندیاں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ کونسل کو ڈجیٹل تجارت کی سہولت اور سرحد پار ادائیگی کے نظام کو تیز کرنا ہوگا تاکہ رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔
- کسٹمز میں تاخیر: کرغزستان کے بندرگاہوں اور سرحدی چوکیوں پر اکثر بھیڑ رہتی ہے، جس سے ٹرانزٹ کا وقت ہفتوں بڑھ جاتا ہے۔
- کرنسی کے مسائل: دونوں ممالک کے درمیان لین دین فی الحال تیسرے ممالک (جیسے متحدہ عرب امارات) کے ذریعے ہوتا ہے، جس سے 3 سے 5 فیصد اضافی لاگت پڑتی ہے۔
- ضابطے کے اختلافات: پاکستانی برآمد کنندگان کو کرغزستان کے صحت اور نباتاتی معیارات (ایس پی ایس) پر عمل کرنا ہوگا، جو زرعی مصنوعات کے لیے پاکستان کے معیارات سے زیادہ سخت ہیں۔
ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور وفاقیBoard of Revenue (ایف بی آر) سے کرغزستان کو بھیجنے والی شپمنٹس کے لیے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کو آسان بنانے اور کرنسی سواپ کے انتظامات کو تلاش کرنے کی التجا کی ہے تاکہ غیر ملکی کرنسی کی لاگت کم کی جا سکے۔
پاکستانی کاروباریوں کو اب کیا کرنا چاہیے
اگر آپ ایک برآمد کنندہ یا سرمایہ کار ہیں تو آپ کا ایکشن پلان یہ ہے:
1. ایف پی سی سی آئی کے نئے کرغزستان ڈیسک کے ساتھ رجسٹر کریں
- ای میل: kyrgyzstan@fpcci.com
- آخری تاریخ: جاری (شروع میں رجسٹریشن کے لیے کوئی فیس نہیں)
- مقصد: ٹیکس میں تبدیلیوں، تجارتی میلوں اور ضوابطی اپ ڈیٹس پر اپ ڈیٹس حاصل کرنا۔
2. اسلام آباد میں پہلی کرغزستان تجارتی میلے میں شرکت کریں
- تاریخ: 15–17 اکتوبر 2024
- مقام: کراچی میں ایکسپو سینٹر (اسلام آباد میں مقام کی عدم دستیابی کی وجہ سے منتقل)
- مرکز: ٹیکسٹائل، ادویات، اور زرعی مصنوعات
3. زرعی برآمدات کے لیے ایس پی ایس کے معیارات چیک کریں
- رابطہ: قومی خوراک تحفظ اور تحقیق وزارت
- ویب سائٹ: www.mnfsr.gov.pk/sps
- اہم ضرورت: چاول، گوشت، اور ڈیری مصنوعات کے لیے لیب ٹیسٹنگ سرٹیفکیٹ۔
4. کرغزستان کے شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کا جائزہ لیں
- ایف پی سی سی آئی کرغزستان کے مقامی امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز کی فہرست تیار کر رہا ہے جو پاکستانی مصنوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
- تعارف کے لیے ای میل: partnerships@fpcci.com
5. کرنسی اور بینکنگ میں تبدیلیوں پر نظر رکھیں
- ایس بی پی کرغزستان کے ساتھ براہ راست غیر ملکی کرنسی ونڈو کو حتمی شکل دے رہا ہے، جو دسمبر 2024 تک متوقع ہے۔
- اپ ڈیٹس کے لیے www.sbp.org.pk پر نظر رکھیں۔
آگے کیا ہے: ٹائم لائن اور اہم تاریخیں
- اگست 2024: ایف پی سی سی آئی اور کرغزستان کے چیمبر آف کامرس نے کونسل کے حکم نامے پر دستخط کیے۔
- اکتوبر 2024: اسلام آباد/کراچی میں پہلی تجارتی میلہ۔
- دسمبر 2024: مشترکہ ورکنگ گروپ حکومتوں کو تجارت روڈ میپ پیش کرے گا۔
- فروری 2025: کرغزستان 12 پاکستانی ٹیکسٹائل آئٹمز پر ٹیکس کم کرے گا (فہرست حتمی کی جائے گی)۔
- جون 2025: پاکستان کرغزستان کی ادویات کی درآمدات پر 10 فیصد ڈیوٹی کم کرے گا۔
- دسمبر 2026: 500 ملین ڈالر کے تجارت کے ہدف کا جائزہ لیا جائے گا۔
اصل بات
یہ معاہدہ پاکستانی کاروباریوں کے لیے روایتی منڈیوں جیسے یورپ اور امریکہ سے آگے نکلنے کا ایک نایاب موقع ہے۔ لیکن کامیابی تیزی اور تیاری پر منحصر ہے—جو برآمد کنندگان ابھی اقدام کریں گے وہ کم ٹیکسوں اور نئی منڈی تک رسائی کے پہلے فائدے اٹھائیں گے۔
کرغزستان کے لیے، یہ کونسل روس اور چین پر انحصار کم کرنے اور جنوبی ایشیا کے ساتھ تعلقات گہرا کرنے کی اس کی کوشش کا حصہ ہے۔ پاکستان کے لیے، یہ مرکزی ایشیا کے ساتھ تجارت کے خسارے کو کم کرنے کا موقع ہے، جہاں درآمدات (تیل، معدنیات) برآمدات سے کہیں زیادہ ہیں۔
اگلے 12 مہینوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ کونسل کیا کر سکتی ہے—یا کیا پرانی عادتوں جیسے بیوروکریسی اور تاخیر اس معاہدے کو ناکام بنا دیں گی۔
