پاکستان نے صاف توانائی کی مقامی صنعت کو فروغ دینے کیلئے ای کلسٹر نامی اقدام کا آغاز کیا ہے جس کے تحت پنجاب اور سندھ میں پہلی 15 فیکٹریاں 2027 تک قائم کی جائیں گی اور 2030 تک سالانہ 500 ارب روپے کی پیداوار کا ہدف ہے۔
یہ منصوبہ وزارت صنعت و پیداوار نے 12 جون 2026 کو منظوری دی ہے جس سے 25 ہزار براہ راست اور 75 ہزار بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ملک کا سالانہ صاف توانائی کا درآمدی بل 120 ارب روپے تک کم ہو جائے گا۔
- پہلی مرحلہ: پنجاب اور سندھ کے پانچ شہروں (فیصل آباد، لاہور، ملتان، کراچی، حیدرآباد) میں 15 فیکٹریاں۔
- پیداوار کے مصنوعات: سولر پینلز، لیتھیئم آئن بیٹریاں، انورٹرز، ایل ای ڈی لائٹنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کے چارجر۔
- مقامی مواد کا ہدف: 2028 تک 60 فیصد، 2030 تک 80 فیصد۔
- درکار سرمایہ: پانچ سالوں میں 240 ارب روپے۔
- ملازمتیں: 2030 تک 25 ہزار براہ راست اور 75 ہزار بالواسطہ۔
- بچت: مکمل آپریشن کے بعد سالانہ 120 ارب روپے کی درآمدی بچت۔
ای کلسٹر کیسے کام کرے گا
ای کلسٹر ایک عوامی نجی شراکت داری کا ماڈل ہے۔ حکومت خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں فیصل آباد اور کراچی میں زمین فراہم کرے گی جس پر 10 سال ٹیکس چھوٹ اور مشینری پر ڈیuty فری امپورٹ کی سہولت ہوگی۔
نجی سرمایہ کار—مقامی اور غیر ملکی—ان فیکٹریوں کو مالی اعانت فراہم کریں گے اور ان کا انتظام چلائیں گے۔ وزارت صنعت نودل ایجنسی ہوگی جبکہ قابل تجدید توانائی ترقیاتی بورڈ (AEDB) بین الاقوامی معیارات کی تصدیق کرے گا۔
ہر فیکٹری کو 2028 تک اپنے 60 فیصد پرزوں کی خریداری مقامی فراہم کنندگان سے کرنی ہوگی۔ AEDB ہر سہ ماہی میں تصدیق شدہ مقامی وینڈروں کی فہرست جاری کرے گا۔
کون اپلائی کر سکتا ہے اور کیسے
کوئی بھی پاکستانی کمپنی یا غیر ملکی سرمایہ کار جو کم از کم 50 ملین روپے کی ادائیگی شدہ سرمایہ رکھتا ہو، فیکٹری کے لیے بولی دے سکتا ہے۔ دلچسپی کا اظہار (EOI) 1 جولائی 2026 سے بھرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے جو 31 اگست 2026 کو بند ہو گا۔
- اہلیت: پاکستان میں رجسٹرڈ پاکستانی یا غیر ملکی کمپنی۔
- کم از کم سرمایہ: 50 ملین روپے۔
- ٹائم لائن: EOI 31 اگست 2026 تک، ٹیکنیکل بولیاں 15 ستمبر 2026، مالی بولیاں 30 ستمبر 2026، حتمی اعزازات 15 اکتوبر 2026 کو۔
- درخواست کہاں جمع کرائیں: وزارت صنعت کی ویب سائٹ (https://ecluster.gov.pk)۔
یہ پورٹل EOI دستاویز، فیکٹری کی تفصیلات، زمین کے نقشے اور تصدیق شدہ وینڈروں کی فہرست فراہم کرے گا۔ درخواست دہندگان کو زمین کے استعمال کا سرٹیفکیٹ، ماحولیاتی صافگی اور 10 سالہ مالیاتی ماڈل سمیت تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ جمع کرانا ہوگی۔
آپ کے بجلی کے بل پر کیا اثر پڑے گا
جب پہلی 15 فیکٹریاں چلنا شروع کریں گی تو پاکستان کی سالانہ سولر پینل کی پیداوار 1.2 گیگا واٹ سے بڑھ کر 5 گیگا واٹ ہو جائے گی جو سالانہ 15 لاکھ گھروں پر سولر سسٹم نصب کرنے کے لیے کافی ہوگی۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ اس سے پانچ سالوں میں گھریلو بجلی کے بلوں میں 8 سے 10 فیصد تک کمی آئے گی کیونکہ درآمد شدہ ایندھن اور گرڈ پاور پر انحصار کم ہو گا۔
لاہور کا ایک گھرانہ جو ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرتا ہے، جب مقامی سولر پیداوار بڑے پیمانے پر شروع ہو جائے گی تو اس کے بجلی کے بل میں تقریباً 1800 روپے ماہانہ کی بچت ہو سکتی ہے، جیسا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) کے ابتدائی اندازوں سے پتہ چلتا ہے۔
اگلے اقدامات پر نظر رکھیں
- اگست 2026: EOI کی آخری تاریخ—اگر آپ کو ایک سلاٹ چاہئے تو وقت ضائع نہ کریں۔
- ستمبر 2026: ٹیکنیکل اور مالی بولیاں۔
- اکتوبر 2026: فاتحین کا اعلان، زمین کی الاٹمنٹ شروع ہو گی۔
- 2027: پہلی فیکٹریوں سے ٹرائل پیداوار شروع ہونے کا امکان۔
- 2028: مقامی مواد کا ہدف 60 فیصد تک بڑھے گا، وینڈر تصدیق پر نظر رکھیں۔
- 2030: مکمل 80 فیصد مقامی مواد کا ہدف اور 500 ارب روپے کی پیداوار کا ہدف۔
سرکاری اہلکاروں نے خبردار کیا ہے کہ زمین کی حصولیابی یا مالی اعانت میں تاخیر سے ٹائم لائنز چھ ماہ سے نو ماہ تک پیچھے ہوسکتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مالی اعانت جلد از جلد محفوظ کریں اور بولی جمع کرانے سے پہلے تمام ماحولیاتی صافگی حاصل کر لیں۔
پاکستان کیلئے یہ اقدام کیوں اہم ہے
پاکستان ہر سال تقریباً 1.1 کھرب روپے کا تیل اور کوئلہ درآمد کرتا ہے۔ ای کلسٹر کا مقصد اس درآمدی بل کا ایک بڑا حصہ مقامی طور پر تیار کردہ صاف توانائی کے سامان سے بدلنا ہے تاکہ تجارتی خسارہ کم ہو اور صنعتی شہروں میں مہارت یافتہ ملازمتیں پیدا ہوں۔
یہ اقدام حکومت کے 2030 تک 60 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کی تنصیب کے بڑے ہدف کے ساتھ بھی مطابقت رکھتا ہے جو فی الحال 4.5 گیگا واٹ ہے۔ اگر کامیاب ہوا تو اس ماڈل کو ہوا، پانی اور گرین ہائیڈروجن کی سپلائی چینز کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں صنعتی پارک بجلی کی بندشوں اور بیوروکریسی کی رکاوٹوں کا شکار رہے ہیں۔ وزارت صنعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ای سیز کیلئے سنگل ونڈو کلیئرنس سیل قائم کرے گی اور ان زونز کیلئے قومی گرڈ سے 24/7 بجلی کی ضمانت دے گی۔
اہم حقائق کا خلاصہ
- کل فیکٹریاں: 15 (پہلا مرحلہ)۔
- مقام: فیصل آباد، لاہور، ملتان، کراچی، حیدرآباد۔
- 2030 کا ہدف: 500 ارب روپے کی سالانہ پیداوار۔
- ملازمتیں: 25 ہزار براہ راست، 75 ہزار بالواسطہ۔
- سالانہ بچت: 120 ارب روپے۔
- مقامی مواد کا ہدف: 2028 تک 60 فیصد، 2030 تک 80 فیصد۔
- EOI آخری تاریخ: 31 اگست 2026۔
- سرکاری پورٹل: https://ecluster.gov.pk
