پاکستان 144 ارب ڈالر کی عالمی میڈیکل ٹورازم انڈسٹری سے فائدہ اٹھانے کے لیے تین مراحل پر مشتمل ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت اسلام آباد میں نجی شعبے کے تعاون سے ایک لگژری طبی مرکز قائم کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد بین الاقوامی مریضوں کو کم قیمت پر معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

میڈیکل ٹورازم انڈسٹری اور پاکستان

عالمی میڈیکل ٹورازم انڈسٹری میں جگہ بنانے کے لیے حکومت نے ایک اسٹریٹجک فریم ورک تیار کیا ہے جو بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور بین الاقوامی ایکریڈیشن کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ مرکز اسلام آباد میں قائم کیا جائے گا، جہاں پہلے سے موجود مواصلاتی رابطے اور انفراسٹرکچر اسے ایک مثالی مقام بناتے ہیں۔ نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کا مقصد عالمی معیار کے ہسپتالوں کی تعمیر کو یقینی بنانا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے مریضوں کو راغب کیا جا سکے۔

  • مرحلہ اول: اسلام آباد میں جگہ کا انتخاب اور فزیبلٹی اسٹڈیز۔
  • مرحلہ دوم: ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری اور نجی شعبے کو سرمایہ کاری کی دعوت۔
  • مرحلہ سوم: تعمیراتی کام اور غیر ملکی مریضوں کے لیے بین الاقوامی مارکیٹنگ۔

اسلام آباد کا انتخاب کیوں؟

اسلام آباد میں میڈیکل ٹورازم انڈسٹری کے مرکز کا قیام ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔ دارالحکومت میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کی قربت اور ماہر طبی عملے کی موجودگی اسے دیگر شہروں پر فوقیت دیتی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ یورپ یا امریکہ کے مقابلے میں یہاں سرجری اور دیگر طبی طریقہ کار سستے ہونے کی وجہ سے پاکستان صحت کی سیاحت کا علاقائی مرکز بن سکتا ہے۔

معیشت پر اثرات

یہ منصوبہ پاکستان کی برآمدات کو ٹیکسٹائل اور زراعت سے ہٹ کر متنوع بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ ہیلتھ کیئر اور ہاسپٹلٹی کے شعبوں میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ منصوبے کی کامیابی کا انحصار مستقل بجلی کی فراہمی اور بین الاقوامی طبی سرٹیفیکیشنز پر ہے۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

اگر آپ ہیلتھ کیئر یا رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں، تو حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ٹینڈرز پر نظر رکھیں۔ آنے والے مہینوں میں بولی کے عمل اور ٹائم لائن کے بارے میں مزید تفصیلات متوقع ہیں۔