جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور کشمیر تنازع
جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کشمیر تنازع کا منصفانہ اور منضبط حل سامنے نہیں آتا۔ یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر جاری کردہ اپنے مشترکہ اور انفرادی پیغامات میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کی مسلح افواج نے واضح کیا ہے کہ خطے کا مستقبل کشمیری عوام کے بنیادی حقوق سے جڑا ہوا ہے۔
پاکستانی قیادت نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر (IIOJK) کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یکطرفہ اور جبری اقدامات سے مقبوضہ علاقے کی متنازع حیثیت کو ہرگز تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی وہاں کے عوام کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں۔
یومِ استحصال پر عزمِ نو کا اعادہ
ملک بھر میں یومِ استحصال کے موقع پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا جن میں کشمیری بھائیوں پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت سمیت تمام بڑے شہروں میں یکجہتی واکس، سیمینارز اور خصوصی سیشنز منعقد کیے گئے تاکہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ وادی میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں مبذول کرائی جا سکے۔
سرکاری بیانات کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے غیر متزلزل اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
- مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سازشوں کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔
- اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازع کے حل کا مطالبہ دہرایا گیا۔
پاکستانی قیادت کا مؤقف اور آئندہ کی حکمتِ عملی
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ خطے میں امن کا انحصار براہ راست اس دیرینہ مسئلے کے منصفانہ حل پر ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارتی اقدامات بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشنز کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
عسکری قیادت نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے منصفانہ مؤقف کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں ہونے والے اجتماعات میں شہریوں اور سیاسی رہنماؤں نے بھی کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا۔
آپ کو آگے کیا دیکھنا چاہیے
اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والی سفارتی بریفنگز اور بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے جانے والے مؤقف پر نظر رکھیں۔ اس کے علاوہ قومی میڈیا پر جاری خصوصی نشریات اور کشمیر سے متعلق سرکاری پالیسی کی تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے خبروں سے باخبر رہیں۔
