پاکستان نے 2026 کی پہلی ششماہی میں 317 ہزار مہارت یافتہ افراد کو کھو دیا ہے جن میں ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی پیشہ ور شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار بیرون ملک روزگار اور تارکین وطن کے محکمہ ہجرت کے سرکاری ریکارڈ سے سامنے آئے ہیں۔ یہ ہجرت گزشتہ سال کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ ہے اور اس کی وجہ اقتصادی عدم استحکام، بار بار انٹرنیٹ بندشیں اور مہنگائی میں بے پناہ اضافہ بتایا جا رہا ہے۔

محکمہ ہجرت اور بیرون ملک روزگار کی تازہ ترین رپورٹ 15 جولائی 2026 کو جاری کی گئی ہے جس کے مطابق 1 جنوری سے 30 جون 2026 کے درمیان 189 ہزار مرد اور 128 ہزار خواتین نے پاکستان چھوڑا ہے۔ ان میں سے 112 ہزار آئی ٹی پیشہ ور، 98 ہزار انجینئر اور 74 ہزار ڈاکٹر شامل ہیں۔ باقی 33 ہزار افراد اکاؤنٹنٹس، ٹیچرز اور دیگر مہارت یافتہ افراد پر مشتمل ہیں۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان کی معیشت 12.4 ارب ڈالر کےCurrent Account Deficit کا سامنا کر رہی ہے جو مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 مہینوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مہنگائی کی شرح مئی 2026 میں 38.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کئی دہائیوں کا ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ 23 مئی 2026 کو پورے ملک میں انٹرنیٹ بندش نے دور دراز سے کام کرنے اور فری لانسنگ کو شدید متاثر کیا ہے جو آئی ٹی پیشہ ور افراد کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔

وہ کہاں جا رہے ہیں؟

پاکستان کے مہارت یافتہ افراد بنیادی طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا کا رخ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب سب سے بڑا مقام ہے جہاں 45 فیصد افراد جارہے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر ہے جہاں 28 فیصد افراد جارہے ہیں۔ کینیڈا کی ٹیک فرینڈلی امیگریشن پالیسیوں نے آئی ٹی پیشہ ور افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے جبکہ برطانیہ اور آسٹریلیا ڈاکٹروں اور انجینئرز کو تیز رفتار ویزا سسٹم کے ذریعے اپنی طرف راغب کر رہے ہیں۔

  • سعودی عرب: 142,650 افراد (45%)
  • متحدہ عرب امارات: 88,760 افراد (28%)
  • کینیڈا: 41,340 افراد (13%)
  • برطانیہ: 25,210 افراد (8%)
  • آسٹریلیا: 19,040 افراد (6%)

ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

یہ ہجرت اس وقت تیز ہوئی ہے جب فروری 2026 میں 1,700 ارب روپے کے مِنی بجٹ کا اعلان کیا گیا جس میں فری لانسروں اور آئی ٹی ایکسپورٹس پر نئے ٹیکس لگائے گئے۔ وفاقیBoard of Revenue (FBR) نے بیرون ملک سے آنے والی remittances کے لیے دستاویزی تقاضے سخت کر دیے ہیں جس سے خاندانوں کے لیے بیرون ملک سے پیسے وصول کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اسی دوران مارچ 2026 میں آئی ٹی ایکسپورٹرز کے لیے 250 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب تک زیادہ تر فرموں تک اس کا فائدہ نہیں پہنچا ہے۔

ڈاکٹر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کی جانب سے تنخواہوں میں تاخیر اور سرکاری ہسپتالوں میں غیر محفوظ کام کرنے کے حالات کی وجہ سے ہڑتالوں کا ذکر کرتے ہیں۔ انجینئرز ڈیمر بھاشا ڈیم اور کراچی سرکلر ریلوے جیسے بڑے منصوبوں میں تاخیر کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں جو فنڈنگ کی کمی کی وجہ سے رک گئے ہیں۔ آئی ٹی پیشہ ور افراد غیر مستحکم انٹرنیٹ اور بجلی کی کٹوتیوں کا شکوہ کرتے ہیں جو انٹرنیٹ بندشوں کے دوران دور دراز سے کام کرنا ناممکن بنا دیتی ہیں۔

پاکستان پر کیا اثرات پڑیں گے؟

ماہرین اقتصادیات کے مطابق یہ دماغی فرار پاکستان کی معیشت کو سالانہ 3.2 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس ہجرت کے کئی اہم اثرات ہیں:

  • صحت کی خدمات: پاکستان میں فی ڈاکٹر 1,300 افراد کا تناسب WHO کی تجویز کردہ 1:1,000 کی نسبت بہت کم ہے۔ صرف چھ مہینوں میں 74 ہزار ڈاکٹروں کا جانا اس بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
  • انجینئرنگ: تعمیراتی شعبہ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے متاثر ہے اور اب بڑے منصوبوں میں تاخیر کا سامنا ہے۔
  • آئی ٹی سیکٹر: پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں آئی ٹی ایکسپورٹس میں 15 فیصد کمی رپورٹ کی ہے کیونکہ فرموں کو ٹیلنٹ برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

آپ کیا کر سکتے ہیں؟

اگر آپ بھی بیرون ملک جانے یا پاکستان میں رہنے پر غور کر رہے ہیں تو یہاں کچھ اہم معلومات ہیں جو آپ کی مدد کر سکتی ہیں:

  • ڈاکٹروں کے لیے: PMDC کا اوورسیز رجسٹریشن امتحان (ORE) ان لوگوں کے لیے لازمی ہے جو بیرون ملک کام کرنا چاہتے ہیں۔ UK، آسٹریلیا یا کینیڈا کے میڈیکل بورڈز میں اپلائی کرنے سے پہلے www.pmdc.pk پر رجسٹر ہو جائیں۔
  • انجینئرز کے لیے: پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) نے غیر ملکی روزگار کے سرٹیفیکیشن کے طریقہ کار کو آسان بنا دیا ہے۔ اپنی ڈگری اور تجربے کے سرٹیفکیٹس کے ساتھ www.pec.org.pk پر آن لائن اپلائی کریں۔
  • آئی ٹی پیشہ ور افراد کے لیے: پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) فری لانسروں کے رجسٹریشن اور ایکسپورٹس پر ٹیکس چھوٹ فراہم کرتا ہے۔ اہلیت چیک کرنے کے لیے www.pseb.org.pk وزٹ کریں۔
  • خاندانوں کے لیے: State Bank of Pakistan نے بیرون ملک سے آنے والی remittances کے قواعد میں نرمی کی ہے۔ اب آپ بغیر کسی پیشگی اجازت کے 5,000 ڈالر ماہانہ وصول کر سکتے ہیں لیکن دستاویزات کی ضرورت اب بھی رہے گی۔

اگلے کیا؟

- جولائی 2026: حکومت ’Knowledge Economy‘ پالیسی کا اعلان کرنے والی ہے جس کا مقصد آئی ٹی پیشہ ور افراد کو پاکستان میں رکھنا ہے۔ تفصیلات ابھی تک خفیہ ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق اس میں اسٹارٹ اپس کے لیے ٹیکس چھوٹ اور تیز انٹرنیٹ کی سہولیات شامل ہو سکتی ہیں۔
- اگست 2026: پاکستان انجینئرنگ کونسل لاہور اور کراچی میں انجینئرز کے لیے ایک ملازمت میلے کا اہتمام کرے گی۔
- ستمبر 2026: State Bank of Pakistan remittance پالیسیوں کا جائزہ لے گا اور ممکنہ طور پر rules میں مزید نرمی کرے گا تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پیسے بھیجنے کی ترغیب دی جا سکے۔

یہ دماغی فرار محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ ایک قومی ہنگامی صورتحال ہے۔ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو پاکستان اپنی اگلی نسل کے مہارت یافتہ افراد کو کھو دے گا اور اپنی معاشی و سماجی مشکلات کو مزید گہرا کر لے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس سے پہلے اقدامات کر پائے گی؟

آپ کا کیا ارادہ ہے؟ کیا آپ پاکستان میں رہیں گے یا بیرون ملک چلے جائیں گے؟ اپنے خیالات نیچے کمنٹس میں شیئر کریں۔