پاور ڈویژن کی زیرِ غور ایک نئی پالیسی کے تحت، گھروں اور کاروباری اداروں میں موجود سولر سسٹمز کے مالکان شام کے اوقات میں بیٹری میں محفوظ بجلی قومی گرڈ کو فراہم کر کے اضافی نقد رقم کما سکیں گے۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد سورج غروب ہونے کے بعد بجلی کی طلب میں ہونے والے شدید اضافے سے نمٹنا ہے، جب ملک بھر میں گھریلو ایئر کنڈیشنرز، لائٹنگ اور دیگر آلات ایک ساتھ چلائے جاتے ہیں۔ دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی بجلی ضائع کرنے یا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں پر اچانک بوجھ ڈالنے کے بجائے، وفاقی ادارے اب نجی رہائشی بیٹری اسٹوریج کا رخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
شام کے وقت سولر انمیسٹوز کیسے کام کریں گے؟
لاہور، کراچی، اسلام آباد اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں موجودہ نیٹ میٹرنگ قوانین کے تحت، صارفین دن کی روشنی میں بننے والی اضافی بجلی بنیادی ٹیرف پر گرڈ کو فروخت کرتے ہیں۔ تاہم، دوپہر تک بیٹریاں مکمل چارج ہو جاتی ہیں اور دن کے وقت بوجھ کم ہونے کی وجہ سے اضافی بجلی کا کوئی معاشی فائدہ نہیں رہتا۔ زیرِ غور نئے میکانزم کے تحت شام 6 بجے سے رات 10 بجے کے دوران بجلی فراہم کرنے پر ایک الگ اور پرکشش ٹیرف متعارف کرایا جائے گا۔ اگر آپ اس اوقات کار میں اپنی لیتھیم آئن یا لیڈ ایسڈ بیٹریوں سے محفوظ شدہ کلو واٹ بجلی واپس لوکل ڈسٹری بیوشن کمپنی کی لائنوں میں بھیجتے ہیں، تو آپ کو عام دن کے مقابلے میں زیادہ مالی کریڈٹ یا براہِ راست ادائیگی ملے گی۔
حکام کا ماننا ہے کہ اس حکمت عملی سے اوورلوڈ ٹرانسفارمرز پر دباؤ کم ہوگا اور درآمد شدہ مہنگے فرنس آئل یا ایمرجنسی پلانٹس پر انحصار گھٹایا جا سکے گا۔ 10 کلو واٹ کے روف ٹاپ سیٹ اپ اور مناسب بیٹری رکھنے والے اوسط شہری کے لیے یہ تبدیلی ماہانہ بجلی کے بلوں کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ تاہم، سمارٹ میٹرز کی مطابقت، بائی ڈائریکشنل انورٹرز کے معیارات اور ڈسکوز یعنی لیسکو یا کے الیکٹرک کی جانب سے اس عمل کی درست پیمائش کے حوالے سے تکنیکی چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔
آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ فی الحال اپنے گھر پر سولر سسٹم لگوانے کا ارادہ رکھتے ہیں یا اپنے پرانے سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو بیٹری اسٹوریج کے بغیر کام چلانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے دوبارہ سوچ لیں۔ اگرچہ صرف بیک اپ کے لیے بغیر بیٹری یا عام ہائبرڈ سسٹمز اب تک مقبول رہے ہیں، لیکن اس پالیسی کے نافذ ہونے کے بعد سمارٹ اور گرڈ ٹائی ہائبرڈ انورٹرز میں سرمایہ کاری زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی۔ اپنے انورٹر کی خصوصیات پر نظر رکھیں تاکہ وہ سمارٹ ایکسپورٹ شیڈولنگ کو سپورٹ کرے، جس سے آپ گھر کی ضرورت کے لیے بجلی بچا کر شام کے اوقات میں اضافی بجلی منافع بخش نرخوں پر فروخت کر سکیں۔ سستی اور غیر تصدیق شدہ بیٹریاں خریدنے سے گریز کریں اور ایسی یونٹس تلاش کریں جو روزانہ کی چارجنگ اور ڈسچارجنگ کو آسانی سے برداشت کر سکیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آنے والے ہفتوں میں جب پاور ڈویژن باضابطہ ضابطے تیار کر لے گا، تو نیپرا کی جانب سے عوامی مشاورت کا آغاز متوقع ہے۔ آپ کو شام کے وقت برآمدات کے لیے مجوزہ نرخوں کے حوالے سے سرکاری نوٹیفیکیشنز پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ معاشی فائدہ مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہوگا کہ ادائیگی کا مارجن آپ کی بیٹری کی کٹائی اور گھسائی کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔ علاقائی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو بھی یہ تکنیکی رہنما اصول جاری کرنا ہوں گے کہ صارفین اپنے اسٹوریج سسٹمز کو مراعات کے لیے کیسے رجسٹر کریں۔ جب تک یہ تمام قانونی مراحل طے نہیں ہوتے، اسے حتمی تبدیلی کی بجائے ایک زیرِ غور پالیسی سمجھیں۔
