pakistan navy day (یومِ بحریہ) کے موقع پر، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے اسلام آباد میں نیول ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران پاک بحریہ کے شہداء کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔ نیول چیف نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی، شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ملک کے بحری دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے افسران اور جوانوں کی غیر معمولی شجاعت کو سلام پیش کیا۔
یومِ بحریہ ہر سال 8 ستمبر کو پاک بحریہ کی تاریخی کامیابیوں اور ملکی سمندری حدود کے تحفظ میں اس کے کلیدی کردار کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس سال کی تقاریب میں بحری قوت کے ایک معمولی آغاز سے لے کر ایک انتہائی جدید بحری دفاعی ڈھال میں تبدیل ہونے کے سفر کو اجاگر کیا گیا۔
مسلح افواج کو پیش کیے جانے والے قومی خراجِ عقیدت کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- تاریخ: 8 ستمبر 2024 (یومِ بحریہ پاکستان)
- مرکزی تقریب: یادگارِ شہداء، نیول ہیڈ کوارٹرز، اسلام آباد پر پھولوں کی چادر چڑھانا
- مہمانِ خصوصی: چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف
- قومی خراجِ عقیدت: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بحری اور فضائی افواج کے لیے تعریفی پیغامات جاری کیے۔
- سرکاری پورٹل: شہری بحریہ کی تاریخ کے بارے میں جاننے یا بھرتی کے طریقہ کار کے لیے آفیشل پورٹل joinpaknavy.gov.pk پر جا سکتے ہیں۔
یادگارِ شہداء پر خراجِ عقیدت
اسلام آباد میں مرکزی تقریب کے دوران ایڈمرل نوید اشرف نے اس بات پر زور دیا کہ شہداء کی قربانیاں پوری قوم کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی۔ یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب دراصل اس عہد کی تجدید ہے کہ پاک بحریہ کے افسران اور جوان پاکستان کی خودمختاری کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی پیر 8 ستمبر 2024 کو ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے پاک بحریہ کے شہداء اور غازیوں دونوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے وطن عزیز کی سمندری حدود کے دفاع میں ان کی گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے بحری محافظوں کی بدولت چین کی نیند سوتی ہے۔
ایک مضبوط بحری قوت کا سفر
افسران سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ پاک بحریہ کی اصل طاقت صرف اس کے جہازوں یا ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ اس کے اہلکاروں کے غیر متزلزل عزم، قربانی اور بہادری میں پنہاں ہے۔ 1947 میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک بحریہ نے ایک طویل اور شاندار سفر طے کیا ہے۔
محدود وسائل کے ساتھ ایک معمولی قوت کے طور پر سفر شروع کرنے والی پاک بحریہ دہائیوں کے دوران ایک مضبوط اور جدید جنگی قوت بن کر ابھری ہے۔ یہ ترقی پیشہ ورانہ مہارت، سخت تربیت اور خود انحصاری کے عزم کا نتیجہ ہے۔ آج پاک بحریہ بحیرہ عرب کے شمالی حصوں میں سرگرمی سے گشت کرتی ہے اور بین الاقوامی بحری اتحادوں کا حصہ بن کر عالمی تجارتی راستوں کو قزاقی اور دہشت گردی سے محفوظ رکھتی ہے۔
مسلح افواج کو قومی خراجِ عقیدت
ستمبر کے ابتدائی دن پاکستان کی دفاعی افواج کے لیے قومی یادگار کے دن ہیں۔ یومِ بحریہ کی تقاریب کے ساتھ ساتھ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 7 ستمبر کو منائے جانے والے یومِ فضائیہ کے موقع پر پاک فضائیہ (PAF) کے شہداء، غازیوں اور جوانوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ملکی فضائی حدود کے دفاع اور دشمن کے خلاف دفاعی توازن برقرار رکھنے میں پاک فضائیہ کے "شاہینوں" کے تاریخی کردار کو سلام پیش کیا۔
فوجی قیادت اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے پیش کیے جانے والے یہ مشترکہ خراجِ عقیدت ملکی سلامتی اور دفاع پر پوری قوم کے یکجا ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ ملکی بحری ورثے سے جڑنا چاہتے ہیں اور اپنی فورسز کی حمایت کرنا چاہتے ہیں، تو درج ذیل اقدامات کریں:
- بحری عجائب گھروں کی سیر کریں: کراچی میں واقع پاکستان میری ٹائم میوزیم کا دورہ کریں تاکہ 1965 کی بحری جنگ اور ٹیکنالوجی کے ارتقاء کو قریب سے دیکھ سکیں۔
- شہداء کے خاندانوں کی مدد: پاک بحریہ کے زیر انتظام کام کرنے والے فلاحی اداروں کے ساتھ تعاون کریں جو شہداء کے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں۔
- ملازمت کے مواقع تلاش کریں: اگر آپ نوجوان گریجویٹ یا انجینئر ہیں، تو joinpaknavy.gov.pk پر جا کر بحریہ میں شمولیت کے مواقع تلاش کریں۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
پاک بحریہ کے جدید ترین منصوبوں پر نظر رکھیں۔ پاک بحریہ اس وقت چین اور ترکی کے تعاون سے تیار کردہ جدید ترین ملجم کلاس کارویٹس اور ہنگور کلاس آبدوزیں بیڑے میں شامل کر رہی ہے۔ ان نئے اثاثوں کی شمولیت سے بحر ہند میں پاکستان کی بحری سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔ اس کے علاوہ رواں سال کے آخر میں بحیرہ عرب میں ہونے والی کثیر الملکی بحری مشقوں پر بھی نظر رکھیں جو علاقائی امن و امان کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
