وفاقی وزرا اور ملک بھر کے سیاسی رہنماؤں نے 5 اگست 2026 کو یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کی شدید مذمت کی۔ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر سمیت دنیا بھر میں ریلیاں، جلسے اور مظاہرے منعقد کیے گئے تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا جا سکے۔

حکومتی عہدیداروں نے اپنے بیانات میں واضح کیا کہ بھارتی حکومت کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے جیسے یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کشمیری بھائیوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت ہر فورم پر جاری رکھے گا۔

بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کا انہدام

یومِ استحصالِ کشمیر کے اجتماعات کا بنیادی محور نئی دہلی کے غیر آئینی اور جبری اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرنا تھا۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سازشیں اور فوجی کریک ڈاؤن کشمیریوں کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف بھی کشمیری عوام نے سیاہ پٹیاں باندھ کر بھارتی تسلط کے خلاف اپنے غصے اور احتجاج کا بھرپور اظہار کیا۔

عالمی سطح پر یکجہتی اور آئندہ کے اقدامات

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیری کمیونٹی نے بھی دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں احتجاجی مظاہرے کیے اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نوٹس لیں۔

  • اپنے مقامی حلقوں اور تعلیمی اداروں میں کشمیر بیداری واکس اور سیمینارز کا انعقاد کریں۔
  • سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز کو عالمی سطح پر اجاگر کریں۔
  • سول سوسائٹی کے پلیٹ فارمز سے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

سفارتی حلقے آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے حوالے سے اٹھنے والی آوازوں کا جائزہ لیں گے۔ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں کشمیر کے قومی کاز پر مکمل طور پر متفق ہیں۔