پاکستان فارماسیوٹیکل ایکسپورٹس (پاکستان سے ادویات کی برآمدات) مالی سال 2024-25 (FY2025) کے دوران 457 ملین ڈالر کی تاریخی 20 سالہ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس میں سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ سنگ میل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت ملک کے ادویات سازی کے شعبے کو ایک عالمی برآمدی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے کوششیں تیز کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اسلام آباد میں ایک انڈسٹری گول میز کانفرنس کے دوران ان اعداد و شمار کا اعلان کیا۔ انہوں نے مقامی مینوفیکچررز پر زور دیا کہ وہ صرف ملکی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے بین الاقوامی مارکیٹ کو نشانہ بنائیں اور حکومت کے نئے 10 ارب ڈالر کے سالانہ برآمدی روڈ میپ کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔

حالیہ تجارتی اعداد و شمار اور حکومتی حکمت عملی کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- ریکارڈ برآمدی مالیت: مالی سال 2025 میں ادویات کی برآمدات 457 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔
- تیز رفتار ترقی: یہ شعبہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 34 فیصد ترقی کر کے روایتی برآمدی شعبوں سے آگے نکل گیا۔
- پرعزم ہدف: وزارت منصوبہ بندی نے اگلے ایک دہائی میں ان برآمدات کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا روڈ میپ تیار کیا ہے۔
- بنیادی توجہ: عام ادویات کی تیاری سے ہٹ کر ہائی ویلیو انوویشن، بائیوٹیکنالوجی اور خام مال (APIs) کی مقامی سطح پر تیاری۔

پاکستان فارماسیوٹیکل برآمدات میں 34 فیصد اضافے کا جائزہ

پاکستان کی ادویات کی برآمدات میں یہ نمایاں اضافہ ملک کے صنعتی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماضی میں، پاکستانی دوا ساز ادارے زیادہ تر مقامی مارکیٹ پر ہی توجہ مرکوز کرتے تھے، جہاں قیمتوں کے تعین پر حکومت کے ساتھ اکثر تنازعات رہتے ہیں۔ تاہم، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث مقامی کمپنیوں نے اب جارحانہ انداز میں بین الاقوامی منڈیوں کا رخ کیا ہے۔

اس وقت پاکستانی ادویات کی بڑی برآمدی منڈیوں میں افریقہ، وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک شامل ہیں۔ پاکستانی ادویات اپنی مناسب قیمتوں اور بنیادی بین الاقوامی معیار کے باعث ان ترقی پذیر ممالک میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) نے بھی برآمدات کے لیے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنایا ہے جس سے مقامی کمپنیوں کو مدد مل رہی ہے۔

اس پیش رفت کے باوجود، 457 ملین ڈالر کی موجودہ برآمدات عالمی فارماسیوٹیکل تجارت کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہیں۔ اس سلسلے کو برقرار رکھنے کے لیے صنعت کو صرف پیکیجنگ اور فارمولیشن سے آگے بڑھ کر بنیادی ریسرچ پر توجہ دینا ہوگی۔

پاکستان کو گلوبل ہب بنانے کے لیے 10 ارب ڈالر کا روڈ میپ

وفاقی وزیر احسن اقبال نے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو جدت اور برآمدات کا مرکز بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں۔ مجوزہ 10 ارب ڈالر کا روڈ میپ محض ایک ہدف نہیں بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے ایک سٹریٹجک ضرورت ہے۔

اپنے خطاب میں وزیر منصوبہ بندی نے یقین دلایا کہ حکومت پالیسی سپورٹ، ٹیکس مراعات اور ریگولیٹری سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ نجی شعبے کو تحقیق اور ترقی (R&D) میں سرمایہ کاری کر کے خود آگے بڑھنا ہوگا۔

احسن اقبال نے کہا، "ہم اب صرف ٹیکسٹائل جیسی روایتی برآمدات پر انحصار نہیں کر سکتے۔ مستقبل نالج بیسڈ انڈسٹریز کا ہے۔ ہماری فارماسیوٹیکل صنعت میں صلاحیت موجود ہے، لیکن اسے جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور عالمی معیار کی فیکٹریاں قائم کرنے کی ضرورت ہے۔"

مقامی مینوفیکچررز کو درپیش چیلنجز

اگرچہ حالیہ ترقی حوصلہ افزا ہے، لیکن مقامی دوا ساز اداروں کو چند بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جو اس سفر کو سست کر سکتے ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان ادویات کی تیاری کے لیے درکار 90 فیصد سے زائد خام مال (Active Pharmaceutical Ingredients - APIs) چین اور بھارت سے درآمد کرتا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی سے خام مال کی درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے جس سے ادویات کی تیاری مہنگی ہو جاتی ہے۔

دوسرا بڑا چیلنج بجلی اور گیس کے مہنگے ٹیرف ہیں۔ توانائی کی زیادہ قیمتوں کے باعث پاکستانی مصنوعات کے لیے بھارت اور بنگلہ دیش جیسے علاقائی ممالک کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بھارت سالانہ 25 ارب ڈالر سے زائد کی ادویات برآمد کرتا ہے کیونکہ وہاں خام مال کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے بڑے صنعتی پارکس موجود ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے: سرمایہ کاروں اور پیشہ ور افراد کے لیے مواقع

اگر آپ سرمایہ کار، کاروباری شخصیت یا ہیلتھ کیئر اور کیمیکل سیکٹر سے وابستہ ہیں، تو یہ برآمدی تیزی آپ کے لیے بہترین مواقع پیدا کر رہی ہے:

  • خام مال کی تیاری (API) پر توجہ دیں: حکومت کی طرف سے مقامی سطح پر دوا سازی کا خام مال بنانے والے پلانٹس لگانے کے لیے خصوصی رعایتیں دی جا رہی ہیں۔
  • علاقائی منڈیوں کو نشانہ بنائیں: درمیانے درجے کے دوا ساز ادارے وسطی ایشیا (ازبکستان، تاجکستان) اور افریقی ممالک میں اپنی مصنوعات رجسٹر کروانے پر توجہ دیں۔
  • معیار کو بہتر بنائیں: عالمی اداروں (جیسے WHO-GMP یا US FDA) سے سرٹیفیکیشن حاصل کرنے سے بڑی اور منافع بخش مارکیٹوں تک رسائی ممکن ہوگی۔
  • نوجوانوں کے لیے روزگار: فارمیسی اور کیمیکل انجینئرنگ کے گریجویٹس کے لیے ریگولیٹری امور، کوالٹی ایشورنس اور ریسرچ کے شعبوں میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

آنے والے مہینوں میں وزارت صحت اور ڈریپ (DRAP) کے اقدامات پر نظر رکھیں۔ توقع ہے کہ حکومت جلد ہی ایک نئی پرائسنگ پالیسی کا اعلان کرے گی جس میں برآمدات بڑھانے والی کمپنیوں کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔

اس کے علاوہ، حکومت کی طرف سے مجوزہ "فارما ایکسپورٹ زونز" کے قیام کی خبروں پر نظر رکھیں۔ اگر حکومت ان زونز میں سستی زمین اور بجلی فراہم کرنے میں کامیاب ہو گئی، تو اس سیکٹر میں بڑی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہے۔