سعودی عرب، ترکی اور چین میں منعقدہ سرمایہ کار روڈ شوز کے بعد حکومت پاکستان کی پاور نجکاری کی کوششوں کو زبردست پذیرائی ملی ہے۔ سرکاری حکام نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ تین سرکاری بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکو) کو فروخت کرنے کے اس عمل میں غیر ملکی خریداروں نے گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یہ تمام مذاکرات سرکاری اداروں کے خسارے پر قابو پانے، سرکلر ڈیٹ میں کمی لانے اور توانائی کے نظام میں نجی شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ان روڈ شوز کے دوران ان تینوں ممالک کے بڑے سرمایہ کاروں، توانائی کے اداروں اور حکومتی فنڈز کو واضح تجارتی تجاویز پیش کی گئیں۔
روڈ شوز کے نتائج اور ہدف بننے والی کمپنیاں
نجکاری کے اس مرحلے میں ملک کے اہم ترینعلاقوں کو بجلی فراہم کرنے والی سرکاری کمپنیاں شامل ہیں۔ وزارت نجکاری اور توانائی کے حکام پر مشتمل وفود نے ان ممالک کے دوروں کے دوران نیپرا کے ریگولیٹری فریم ورک اور ٹیرف کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اگرچہ باضابطہ بولی کے عمل سے پہلے مالیاتی تخمینے فی الحال ظاہر نہیں کیے گئے، لیکن ابتدائی ردعمل کو حکام کی جانب سے انتہائی مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ کے بجلی کے بلوں پر اس کا کیا اثر ہوگا؟
آسمان کو چھوتے ہوئے بجلی کے بلوں سے پریشان عام صارف کے لیے اس نجکاری کا مقصد بجلی کی چوری روکنا اور ترسیلی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ سرکاری ڈسکو کمپنیاں طویل عرصے سے بدانتظامی اور لائن لاسز کا شکار چلی آ رہی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو مہنگی بجلی کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔
نجکاری کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ نجی شعبے کے آنے سے نظام میں بہتری آئے گی، جبکہ دوسری طرف مزدور یونینز اور صارفین کے حقوق کے ادارے اس بات پر فکرمند ہیں کہ نجی مالکان آتے ہی ملازمین کی چھانٹی یا قیمتوں میں مزید اضافے کا راستہ نہ اپنا لیں۔
آگے کیا دیکھنا چاہیے؟
اگر آپ انرجی سیکٹر سے جڑے ہیں یا کاروبار چلاتے ہیں، تو نجکاری کمیشن کی باضابطہ ویب سائٹ privatization.gov.pk پر نظر رکھیں جہاں جلد ہی بولی دینے کی آخری تاریخیں اور پری کوالیفیکیشن نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ کابینہ کی نجکاری کمیٹی آنے والے ہفتوں میں اس عمل کے حتمی شیڈول کا جائزہ لے گی۔
