وفاقی حکومت نے چین کے انتہائی مربوط پبلک سیفٹی ماڈل کی طرز پر پاکستان پولیس اے آئی (مصنوعی ذہانت) سسٹمز اور جدید ترین نگرانی کرنے والے ڈرونز متعارف کروا کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت، وزارت داخلہ اسلام آباد میں ایک پائلٹ 'لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر' قائم کرے گی۔ یہ مرکز دیگر بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی اور پشاور میں اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے سے پہلے سمارٹ پولیسنگ کے لیے ایک آزمائشی مرکز کے طور پر کام کرے گا۔

اس جدید ترین منصوبے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
- بنیادی مقام: اسلام آباد (پائلٹ لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر)
- بنیادی ٹیکنالوجیز: اے آئی پر مبنی تجزیاتی سافٹ ویئر، تھرمل اور ہائی ریزولوشن ڈرونز، چہروں کی خودکار شناخت (فیشل ریکگنیشن)، اور ڈیجیٹل فارنسکس۔
- ماڈل کا ماخذ: چین کا شہری سمارٹ پولیسنگ اور نگرانی کا بنیادی ڈھانچہ۔
- اہم مقاصد: ہنگامی حالات میں فوری ردعمل، کیس فائلوں کا ڈیجیٹل انتظام، اور اسٹریٹ کرائم کو روکنے کے لیے قبل از وقت پولیسنگ۔

اسلام آباد کا نیا پائلٹ لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر

اس جدید ترین مہم کا مرکز وفاقی دارالحکومت میں ایک خصوصی لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر کا قیام ہے۔ یہ مرکز روایتی اور کاغذی کارروائی والے پولیسنگ کے طریقوں کو ختم کرے گا جنہوں نے تاریخی طور پر پاکستان میں تحقیقات کے عمل کو سست کر رکھا ہے۔ اس کے بجائے، یہاں مرکزی ڈیٹا بیس قائم کیے جائیں گے جہاں جائے وقوعہ کے ڈیٹا، بائیومیٹرک ریکارڈز اور سی سی ٹی وی کیمروں کی لائیو فیڈز کا حقیقی وقت (رئل ٹائم) میں تجزیہ کیا جائے گا۔

پاکستان پولیس اے آئی سسٹمز کا استعمال کرتے ہوئے، تفتیش کار سیکنڈوں میں مشتبہ افراد کے ڈیٹا کی تصدیق کر سکیں گے۔ فی الحال، اسلام آباد اور دیگر اضلاع میں پولیس اہلکار مینوئل ریکارڈ کیپنگ پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر عدالتوں میں چالان جمع کرانے میں تاخیر ہوتی ہے۔ نیا مرکز معمول کی ڈیٹا کی تصدیق کو خودکار بنا کر تفتیش کے وقت کو ہفتوں سے گھٹا کر چند گھنٹوں تک لانے کا عزم رکھتا ہے۔

پاکستان پولیس اے آئی اور ڈرونز کیسے کام کریں گے؟

جدید ڈرونز کی شمولیت سے وفاقی دارالحکومت کی نگرانی کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کی توقع ہے۔ یہ ڈرونز محض عام کواڈ کاپٹرز نہیں ہیں، بلکہ یہ ہائی ڈیفینیشن تھرمل کیمروں اور آپٹیکل زوم لینسز سے لیس ہوں گے جو اندھیرے میں بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عملی طور پر، یہ فضائی گاڑیاں اسلام آباد کے حساس اور جرائم کے شکار علاقوں اور عوامی اجتماعات کی نگرانی کریں گی۔ جب بھی کوئی ڈرون کسی مشتبہ سرگرمی یا ٹریفک جام کی نشاندہی کرے گا، تو یہ براہ راست مرکزی کمانڈ روم کو لائیو سگنل بھیجے گا۔ اس کے بعد اے آئی سافٹ ویئر ویڈیو فیڈ کا تجزیہ کر کے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی شناخت کرے گا، مطلوبہ مجرموں کے ڈیٹا بیس سے چہروں کا موازنہ کرے گا، اور غیر معمولی ہجوم یا اسلحے کی موجودگی کا بھی پتا لگائے گا۔ یہ خودکار الرٹ سسٹم قریبی پولیس موبائل یونٹ کو صورتحال خراب ہونے سے پہلے کارروائی کرنے کی اجازت دے گا۔

چینی سمارٹ پولیسنگ ماڈل کو اپنانا

پاکستان کی جانب سے چین کے پولیسنگ ماڈل کو اپنانے کا فیصلہ ملک بھر میں 'سیف سٹی' منصوبوں کی کامیابی کے بعد کیا گیا ہے، جو کہ زیادہ تر چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی بنائے گئے تھے۔ لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں ان اقدامات کے تحت پہلے ہی ہزاروں کیمرے نصب ہیں، لیکن موجودہ سسٹمز میں گہرے تجزیاتی سافٹ ویئر کی کمی ہے۔

چینی ماڈل پر اپ گریڈ کر کے، حکومت صرف ریکارڈنگ کرنے کے بجائے جرائم کو پہلے سے روکنے کی طرف جانا چاہتی ہے۔ چین کے سمارٹ شہر ایسے الگورتھم استعمال کرتے ہیں جو ان علاقوں میں پولیس گشت تعینات کرتے ہیں جہاں شماریاتی طور پر جرائم کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ وزارت داخلہ کا منصوبہ ہے کہ وہ چینی سیکیورٹی ماہرین کی تکنیکی مدد سے پاکستانی پولیس افسران کو ڈیٹا فارنسکس اور نگرانی کے ان جدید ٹولز کی تربیت فراہم کرے۔

شہریوں اور پرائیویسی پر اس کے اثرات

اگرچہ ہائی ٹیک پولیسنگ متعارف کرانے سے اسٹریٹ کرائم اور گاڑیوں کی چھین جھپٹ پر قابو پانے میں مدد ملے گی، لیکن اس سے شہریوں کی پرائیویسی سے متعلق اہم سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ پاکستان میں فی الحال کوئی ایسا جامع ڈیٹا پروٹیکشن قانون موجود نہیں ہے جو بائیومیٹرک اور فیشل ریکگنیشن ڈیٹا کو محفوظ کرنے یا شیئر کرنے کے عمل کو سختی سے ریگولیٹ کر سکے۔

سول سوسائٹی کے گروپوں اور ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں نے ماضی میں بھی سیف سٹی کیمروں کے غلط استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان پولیس اے آئی الگورتھم متعارف کرانے سے بڑے پیمانے پر نگرانی (ماس سرویلنس) کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ حکومت کو یہ یقینی بنانے کے لیے واضح قانونی فریم ورک قائم کرنے کی ضرورت ہوگی کہ ان جدید آلات کا استعمال صرف جرائم کی روک تھام کے لیے ہو، نہ کہ پرامن احتجاج یا سیاسی اجتماعات کی نگرانی کے لیے۔

اگلے اقدامات اور مستقبل کی پیش رفت

اسلام آباد میں پائلٹ پروجیکٹ اگلے چند مہینوں میں مراحل وار شروع ہونے کی امید ہے۔ وزارت داخلہ اس وقت خصوصی ڈرونز اور اے آئی سافٹ ویئر لائسنسوں کی خریداری کو حتمی شکل دے رہی ہے۔

آپ کو لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر کی باضابطہ افتتاحی تاریخ پر نظر رکھنی چاہیے، جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ رواں سال کے آخر میں ہو سکتا ہے۔ ایک بار فعال ہونے کے بعد، اس پائلٹ سینٹر کی کارکردگی یہ طے کرے گی کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں اسی طرح کے اے آئی سے لیس پولیس اسٹیشن کتنی جلدی قائم کیے جائیں گے۔ عام شہریوں کے لیے، اس کا فوری اثر اسلام آباد پولیس (ہیلپ لائن 15) کے ردعمل کے وقت میں واضح کمی اور مقامی شکایات کے زیادہ موثر حل کی صورت میں نظر آنا چاہیے۔