پاکستان ریلوے نے مسافروں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے دو اہم ٹرین سروسز بابو پیسنجر اور صندل ایکسپریس کو اس ماہ کے آخر میں دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریلویز کے امور سنبھالنے والے وزیر محمد حنیف عباسی نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ طویل عرصے سے معطل ان دونوں ٹرینوں کے پہیے جلد دوبارہ گھومیں گے، جس سے روزانہ سفر کرنے والے عام شہریوں کو بڑی راحت ملے گی۔ مہنگائی کے اس دور میں روڈ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے بعد مسافروں کی ایک بڑی تعداد سستے ترین ریلوے سفر کی بحالی کا مطالبہ کر رہی تھی۔
بحالی کے حوالے سے اہم تفصیلات
بابو پیسنجر اور صندل ایکسپریس کی بحالی کا بنیادی مقصد پنجاب کے مختلف شہروں کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے مزدوروں، طلباء اور چھوٹے تاجروں کو سستا سفر فراہم کرنا ہے۔ اگرچہ پاکستان ریلوے نے تاحال ٹرینوں کے درست اوقات کار اور نئے کرایوں کا تفصیلی شیڈول جاری نہیں کیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ کرائے عام بسوں کے مقابلے میں کافی کم رکھے جائیں گے۔ آپ روانگی کی تاریخ اور حتمی اوقات جاننے کے لیے پاکستان ریلوے کی سرکاری ویب سائٹ pakrail.gov.pk کا وزق کر سکتے ہیں یا اپنے قریبی ریلوے اسٹیشن سے رابطہ کریں۔
- بحال ہونے والی ٹرینیں: بابو پیسنجر ٹرین اور صندل ایکسپریس
- بحالی کا وقت: رواں ماہ کے آخر میں
- ذمہ دار ادارہ: وزارت ریلوے (محمد حنیف عباسی)
- سرکاری پورٹل: pakrail.gov.pk
مسافروں پر اس فیصلے کے اثرات
ان ٹرینوں کی معطلی کے بعد سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں افراد مہنگی بسوں اور پرائیویٹ ویگنوں پر انحصار کرنے پر مجبور تھے، جہاں ایندھن کی قیمتوں کے ساتھ کرائے بھی آسمان کو چھونے لگتے ہیں۔ ریلوے لائنوں کی بحالی سے سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور روزانہ سفر کرنے والے خاندانوں کے اخراجات میں کمی آئے گی۔ اگر آپ بھی روزانہ کی بنیاد پر ان روٹس پر سفر کرتے ہیں تو یہ فیصلہ آپ کے ماہانہ بجٹ کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
مہینہ ختم ہونے سے پہلے پاکستان ریلوے کی طرف سے جاری ہونے والے اس باضابطہ نوٹیفکیشن کا انتظار کریں جس میں اسٹاپس، انجنوں کی تفصیلات اور کرایوں کا اعلان کیا جائے گا۔ ٹرینوں کی آمد و رفت شروع ہونے کے بعد ریلوے اسٹیشن کے کاؤنٹرز سے ٹکٹوں کے حصول کے طریقہ کار کی تصدیق ضرور کر لیں کیونکہ بعض اوقات ڈیجیٹل بکنگ سسٹم میں اپ ڈیٹس آنے میں کچھ وقت لگ جاتا ہے۔ مسافروں کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا ریلوے انتظامیہ ان ٹرینوں کو بروقت چلانے کا نظام برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔
