پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں باضابطہ طور پر مسئلہ کشمیر اٹھاتے ہوئے بھارت کے 5 اگست 2019 کے متنازع اقدامات اور افغانستان سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرات کی طرف عالمی برداری کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ سفیر عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کے فورم پر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ خطے کا امن دونوں اطراف کے سنگین مسائل حل کیے بغیر قائم نہیں ہو سکتا۔

واشنگٹن اور نیویارک میں ہونے والی اس سفارتی پیشرفت کا مقصد عالمی برداری کو دیرینہ تنازعات اور سرحد پار سلامتی کے چیلنجز کی طرف دوبارہ متوجہ کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی مشروط ہے۔

5 اگست 2019 کے اقدامات کا تذکرہ

اقوام متحدہ کے اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران پاکستانی نمائندوں نے نئی دہلی کی جانب سے 5 اگست 2019 کو اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات کا سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ بریفنگ میں زور دیا گیا کہ ان اقدامات نے خطے کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی۔

سفیر عاصم افتخار نے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے سدباب کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی اصولوں کی نفی کرتے ہیں اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی تک خطے میں کشمکش برقرار رہے گی۔

افغان سرزمین اور سکیورٹی خدکات

مشرقی سرحد کے ساتھ ساتھ پاکستان نے مغربی سرحد پر موجود سکیورٹی چیلنجز کو بھی اس اجلاس میں بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ اسلام آباد نے سلامتی کونسل کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ افغانستان کے اندر موجود پناہ گاہوں سے مختلف دہشت گرد گروہ مسلسل سرگرم عمل ہیں۔

یہ عسکریت پسند نیٹ ورک پاکستان کی اندرونی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ پاکستانی حکام نے کابل کی عبوری حکومت سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور ان دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔

قارئین کے لیے ہدایات

ملکی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے وزارت خارجہ کی آفیشل ویب سائٹ mofa.gov.pk وزਟ کریں تاکہ مستند پریس ریلیز اور اپ ڈیٹس تک رسائی حاصل ہو سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاسوں اور بین الاقوامی سفارتی ملاقاتوں پر نظر رکھیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا عالمی برداری افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کے خلاف کابل پر کوئی دباؤ بڑھاتی ہے یا نہیں۔