رواں سال ملک میں گرمی کی شدت اور موسم کی تبدیلی نے عام زندگی کو متاثر کیا ہے کیونکہ ملک میں جولائی کے دوران معمول سے کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات نے گزشتہ ماہ کے دوران ملک بھر میں ہونے والی بارشوں اور درجہ حرارت کا باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق شہریوں کو ایک طویل گرم اور خشک دور کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تمام صورتحال نے نہ صرف زرعی شعبے کو پریشان کیا ہے بلکہ عام شہریوں کے روزمرہ کے معمولات اور بجلی کے بلوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

محکمہ موسمیات کی رپورٹ اور بارشوں میں کمی

محکمہ موسمیات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے پورے مہینے میں ملک بھر کے اندر معمول سے 11 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارشوں کا یہ خسارہ خاص طور پر میدانی علاقوں اور سندھ و پنجاب کے زرعی حصوں میں زیادہ محسوس کیا گیا جہاں مون سون کی روایتی ہوائیں توقع سے کمزور رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے مٹی میں نمی کا تناسب کم ہوا ہے جو کہ فصلوں کی بہتر نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے۔

گرمی کی شدت اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت

محکمہ موسمیات کی رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ ملک کے بیشتر حصے معمول سے زیادہ گرم رہے۔ بالخصوص اندرونی سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں پارہ تیزی سے اوپر گیا اور ہیٹ ویو جیسی صورتحال پیدا ہوئی۔ گرمی کی اس لہر اور حبس نے لوگوں کو گھروں میں محصور رہنے پر مجبور کیا جبکہ ائیر کنڈیشنگ کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بجلی کی کھپت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے

موجودہ گرم موسم اور بارشوں کی کمی کے پیش نظر آپ کو چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:
- گھریلو سطح پر پانی کا ضیاع روکیں اور پانی کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں۔
- دوپہر کے اوقات میں سخت دھوپ سے بچیں اور خود کو ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں۔
- کاشتکار حضرات اپنی فصلوں کو پانی دینے کے لیے محکمہ موسمیات کی تازہ ترین ایڈوائزری سے رہنمائی لیں۔
- بجلی کے بلوں کو کنٹرول کرنے کے لیے گھریلو اپلائنسز کا استعمال ضرورت کے مطابق کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

آنے والے دنوں میں محکمہ موسمیات کی نئی پشگوئیوں پر نظر رکھیں تاکہ مون سون کے دوسرے مرحلے میں بارشوں کی ممکنہ صورتحال کا پتہ چل سکے۔ اس کے علاوہ متعلقہ ادارے زرعی علاقوں میں پانی کی فراہمی کے لیے نئے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ شہری انتظامیہ بھی آبی ذخائر اور زیر زمین پانی کی سطح پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔