پاکستان نے افغان طالبان کا وہ دعویٰ مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی علاقے سے افغانستان میں ہلکا اور بھاری اسلحہ اسمگل کیا جا رہا ہے۔ دفتر خارجہ نے ان الزامات کو یکسر لغو اور حقیقت سے بعید قرار دیا ہے۔
اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ نے کابل کی طالبان حکومت کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ افغانستان کے اندر پایا جانے والا اسلحہ دہائیوں پر محیط جنگوں کا نتیجہ ہے۔ افغانستان میں سوویت یونین کے دور کا اسلحہ اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے وقت چھوڑا گیا جدید ترین جنگی سامان بڑی مقدار میں اب بھی موجود ہے۔
اہم حقائق ایک نظر میں
- سرکاری موقف: دفتر خارجہ نے افغان طالبان کے اسمگلنگ کے دعووں کو من گھڑت اور لغو قرار دیا۔
- ہتھیاروں کا اصلی ذریعہ: پاکستان نے یاد دہانی کرائی کہ افغانستان میں موجود اسلحہ سوویت دور اور غیر ملکی افواج کے انخلا کا باقی ماندہ حصہ ہے۔
- پاکستان کا مطالبہ: کابل انتظامیہ افغان سر زمین پر موجود کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔
- سرحدی صورتحال: خیبر پختونخوا اور افغانستان کے صوبے پکتیکا سے متصل سرحد پر سیکیورٹی پہلے ہی سخت ہے۔
دفتر خارجہ کا کابل کے الزامات پر سخت ردعمل
وزارت خارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے افغان حکام کے بے بنیاد بیانیے کو باضابطہ طور پر رد کر دیا ہے۔ پاکستانی سفارتکاروں نے کابل حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جھوٹے الزامات تراشنے کے بجائے اپنی سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کا خاتمہ کرے۔
پاکستان نے بارہا اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند افغان سرزمین کو پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان عسکریت پسندوں کو افغانستان کے اندر مکمل آپریشنل آزادی اور پناہ حاصل ہے، جہاں سے وہ پاکستانی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق افغانستان میں سوویت دور کے اسلحے کے ساتھ ساتھ امریکی و ناتو افواج کے چھوڈے ہوئے ہتھیاروں کی موجودگی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنا افغان سرزمین پر موجود ہتھیاروں کی کھلی منڈیوں سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔
سرحد پر باڑ اور سیکیورٹی چیلنجز
یہ سفارتی تلخی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) پر تناؤ برقرار ہے۔ پاکستان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے لگنے والی سرحد، بالخصوص پکتیکا کے سامنے والے علاقوں میں اربوں روپے کی لاگت سے سیکیورٹی باڑ لگائی ہے تاکہ غیر قانونی آمدورفت اور اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔
اس کے باوجود افغان حدود سے پاکستانی چوکیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسلام آباد نے پکتیکا، کنڑ اور ننگرہار میں موجود ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں اور تربیتی کیمپوں کے بارے میں ٹھوس شواہد پر مبنی دستاویزات کابل حکومت کے حوالے کی ہیں، تاہم ان کے خلاف تاحال مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔
عام پاکستانی شہریوں پر اس کے اثرات
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع کے رہائشیوں کے لیے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی براہ راست روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے:
- مقامی سیکیورٹی: سرحدی علاقوں کے شہری عسکریت پسندوں کی ناکہ بندی اور سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
- تجارت اور نقل وحمل: الزامات اور کشیدگی کے باعث تورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہیں بند ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ تجارتی گاڑیاں رکنے سے تازہ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں مقامی منڈیوں میں بڑھ جاتی ہیں۔
- آمدورفت میں مشکلات: علاج معالجے اور رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے سرحد پار کرنے والے عام شہریوں کو شدید تلاشی اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
آن والے دنوں میں مندرجہ ذیل اہم نکات پر نظر رکھیں:
- اعلیٰ سطح کے رابطے: دیکھنا ہوگا کہ آیا اسلام آباد اور کابل کے درمیان سرحد کی صورتحال پر کوئی براہ راست سیکیورٹی مذاکرات ہوتے ہیں یا نہیں۔
- تجارتی شاہراہوں کی صورتحال: تورخم، چمن اور انگور اڈہ کی تجارتی گزرگاہوں پر مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت پر نظر رکھیں۔
- بین الاقوامی فورمز: پاکستان اقوام متحدہ اور علاقائی اجلاسوں میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف مزید کیا شواہد پیش کرتا ہے۔
اگر اپ سرحدی اضلاع کے رہائشی ہیں یا پاک افغان تجارت سے وابستہ ہیں، تو تجارتی سامان کی نقل و حمل سے قبل وزارت داخلہ اور مقامی انتظامیہ کی جاری کردہ ہدایات ضرور چیک کریں۔
