پاکستان نے آزاد کشمیر انتخابات پر بھارت کے تبصرے مسترد کر دیے

وفاقی حکومت نے بھارتی وزارت خارجہ کے ان حالیہ تبصروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں آزاد جموں و کشمیر میں جاری قانون ساز اسمبلی کے انتخابات پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ اسلام آباد نے بھارتی مؤقف کو بے بنیاد اور علاقائی سیاسی عمل میں مداخلت کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے حکام نے جمعرات کے روز واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں انتخابی عمل مکمل طور پر کشمیری عوام اور پاکستانی آئینی فریم ورک کے دائرہ اختیار میں ہے۔ بھارت کی جانب سے ان انتخابات کی ساکھ پر سوال اٹھانا دراصل مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

AJK انتخابات پر بھارتی بیان بازی کی حقیقت

پاکستان میں مقیم شہریوں اور علاقائی صورتحال پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ AJK انتخابات ایک معمول کا جمہوری عمل ہے جس کا مقصد مقامی قانون ساز اسمبلی کے لیے نمائندوں کا انتخاب ہے۔ بھارت کی جانب سے ان انتخابات کی قانونی حیثیت پر اعتراضات کو اسلام آباد تسلسل کے ساتھ مسترد کرتا آیا ہے۔

  • یہ انتخابات آزاد کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974 کے تحت منعقد کیے جاتے ہیں۔
  • پاکستان کا مؤقف ہے کہ حق خود ارادیت بنیادی مسئلہ ہے جسے بھارت مسلسل نظر انداز کر رہا ہے۔
  • سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ بیان بازی محض اپنی داخلی سیاست کو چمکانے کے لیے ہے، نہ کہ اس کے پیچھے کوئی حقیقی قانونی بنیاد ہے۔

سفارتی تناؤ میں اضافہ

دونوں ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری یہ لفظی جنگ گہرے تناؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کے حل کا مطالبہ کرتا ہے، وہیں بھارت کا غیر منطقی دعویٰ ہے کہ پورا خطہ اس کا حصہ ہے، جسے اسلام آباد 1947 سے ہی مسترد کر چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے ان تبصروں کا وقت انتخابی عمل کے دوران چنا گیا ہے تاکہ ووٹرز میں بے یقینی پیدا کی جا سکے۔ تاہم، پاکستانی ریاست نے اعادہ کیا ہے کہ اس طرح کا دباؤ انتخابی عمل یا خطے میں جمہوریت کے تسلسل پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

جیسے جیسے انتخابی عمل اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، مبصرین کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مزید سفارتی تبادلوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر آپ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تو تازہ ترین سرکاری بیانات کے لیے وزارت خارجہ کی ویب سائٹ mofa.gov.pk وزٹ کریں۔

توقع ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے اس خطے کی صورتحال پر کڑی نظر رکھیں گے۔ فی الحال، حکومت اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے کہ پولنگ کا عمل کسی بیرونی مداخلت کے بغیر مکمل ہو۔