آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں جاری انتخابی عمل پر بھارتی تبصروں کو پاکستان نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کے پاس خطے میں جمہوری عمل پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہے۔
24 مئی 2024 کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سخت ردعمل میں، اسلام آباد نے بھارتی وزارت خارجہ کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا جس میں آزاد کشمیر کے انتخابات کو ایک ”ڈرامہ“ قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت، جو خود غیر قانونی طور پر نظر بند جموں و کشمیر (IIOJK) میں ایک قابض قوت ہے، دوسروں کو جمہوریت پر لیکچر نہیں دے سکتا۔
سفارتی تنازع کے اہم حقائق
- تنازعہ: بھارت نے آزاد جموں و کشمیر کے جمہوری انتخابات کو ”ڈرامہ“ اور غیر قانونی قبضے کو چھپانے کی کوشش قرار دیا۔
- پاکستان کا جواب: دفتر خارجہ نے 24 مئی 2024 کو ایک تفصیلی جواب جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ بھارت کے پاس آزاد کشمیر پر تبصرہ کرنے کا نہ تو کوئی مقام ہے اور نہ ہی اخلاقی جواز۔
- مقبوضہ کشمیر کی صورتحال: اسلام آباد نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بھاری موجودگی، سیاسی جبر اور مواصلاتی ناکہ بندی کو اجاگر کیا۔
- سرکاری پورٹل: شہری سفارتی بیانات اور تازہ ترین معلومات کے لیے وزارت خارجہ کی آفیشل ویب سائٹ mofa.gov.pk دیکھ سکتے ہیں۔
پاکستان نے آزاد کشمیر پر بھارتی ریمارکس کیوں مسترد کیے؟
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی اور جمہوری عمل پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی بھارتی کوششیں دراصل مقبوضہ وادی میں اس کے اپنے مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ پاکستان ان بھارتی بیانات کو اس لیے مسترد کرتا ہے کیونکہ نئی دہلی خود کشمیری عوام کے جائز حقوق کو طاقت کے زور پر دبا رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، آزاد کشمیر میں انتخابات کشمیری عوام کے جمہوری فیصلوں کی عکاسی کرتے ہیں جو ایک آئینی ڈھانچے کے تحت منعقد کیے جاتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی نگرانی میں ہونے والے نام نہاد بلدیاتی انتخابات کے برعکس، آزاد کشمیر کا سیاسی عمل مکمل طور پر آزاد، عوامی اور بیرونی فوجی دباؤ سے پاک ہے۔
اسلام آباد نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ آزاد کشمیر کے پرامن سیاسی ماحول کا موازنہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے کرے، جہاں 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کے بعد سے ریاستی دہشت گردی، بلاجواز گرفتاریاں اور میڈیا پر سنسرشپ روز کا معمول بن چکی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال
پاکستان کے سفارتی جواب میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف کے حالات کا واضح موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ ایک طرف جہاں آزاد کشمیر کے عوام اپنے سیاسی حقوق کا آزادانہ استعمال کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف مقبوضہ کشمیر دنیا کے سب سے بڑے فوجی زون میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں 9 لاکھ سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں۔
5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے سری نگر میں مقامی سیاسی قیادت کو مسلسل نظر بند رکھا گیا ہے، عوامی اجتماعات پر پابندی ہے اور بین الاقوامی مبصرین کو وادی میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان حالات میں آزاد کشمیر کے انتخابات پر بھارت کی تنقید اس کی سفارتی منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
قارئین کے لیے اہم معلومات
کشمیر کے معاملے پر نظر رکھنے والے شہریوں، صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی افواہوں کے بجائے مستند سفارتی ذرائع پر بھروسہ کریں۔
- سرکاری بیانات تک رسائی: آپ وزارت خارجہ کی ویب سائٹ mofa.gov.pk پر جا کر تمام پریس بریفنگز اور آفیشل دستاویزات پڑھ سکتے ہیں۔
- قانونی پوزیشن کا ادراک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی قراردادوں، بالخصوص قرارداد نمبر 47 کا مطالعہ کریں، جو کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔
- پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں: ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر چلنے والی ان مہمات سے ہوشیار رہیں جن کا مقصد آزاد کشمیر کے سیاسی ماحول کو غلط رنگ میں پیش کرنا ہے۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
یہ سفارتی تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سمیت تمام عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اٹھا رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں پر نظر رکھیں جہاں پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نئے ثبوت پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں اور گورننس کی بہتری بھارتی پروپیگنڈے کا مؤثر جواب ثابت ہوگی۔ نئی دہلی کی جانب سے کسی بھی مزید بیان بازی پر اسلام آباد کا ردعمل انتہائی سخت اور فوری ہونے کی توقع ہے۔
