دفتر خارجہ نے ساجب واجد جوئے، جو کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے بیٹے ہیں، کی جانب سے لگائے گئے پاکستان آئی ایس آئی الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی کا بنگلہ دیش کے داخلی معاملات میں کوئی کردار نہیں ہے۔
جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا۔ ساجب واجد جوئے نے الزام لگایا تھا کہ آئی ایس آئی بنگلہ دیش میں جاری سیاسی بحران میں تخریبی کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ الزامات بھارت کی جانب سے اپنی علاقائی ناکامیوں کو چھپانے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔
پاکستان آئی ایس آئی الزامات کی حقیقت
اسلام آباد کا سرکاری موقف یہ ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے اور وہاں کے داخلی سیاسی معاملات میں ملوث ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ دفتر خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے حوالے سے یہ بیانات بھارتی پیرانویا (خوف) کا نتیجہ ہیں، جس کا مقصد بنگلہ دیش میں ہونے والی عوامی تحریک کو غیر ملکی سازش کا رنگ دینا ہے۔
- پاکستان تمام ممالک کی خود مختاری اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت پر یقین رکھتا ہے۔
- دفتر خارجہ کے مطابق ان الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔
- حکومت نے علاقائی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کو اپنی داخلی سیاست میں گھسیٹنے سے باز رہیں۔
یہ بیانات کیوں دیے جا رہے ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے بیانات کا مقصد بنگلہ دیش میں ہونے والی حالیہ عوامی بغاوت کو بیرونی ایجنڈے سے جوڑنا ہے۔ جب بھی خطے میں کوئی سیاسی تبدیلی آتی ہے، بعض حلقے اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دفتر خارجہ کا یہ فوری ردعمل اسی پالیسی کو ناکام بنانے کے لیے ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
آئندہ آنے والے دنوں میں اس سفارتی کشیدگی کے اثرات واضح ہوں گے۔ پاکستان نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم پڑوسی ممالک کی جانب سے ایسے بیانات خطے کے مجموعی ماحول پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ ہے کہ وہ اس معاملے پر دفتر خارجہ کے مزید سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں۔
