پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیانات کو یکسر مسترد کر دیا ہے، جنہیں ترجمان دفتر خارجہ نے سراسر بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ بھارت کو آزاد کشمیر کے شفاف اور جمہوری عمل پر تنقید کا نہ تو کوئی اخلاقی حق حاصل ہے اور نہ ہی قانونی جواز۔ اسلام آباد کے نزدیک انڈین اعتراضات کا بنیادی مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔

خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دفتر خارجہ کی بریفنگ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہ پورے خطے کے امن کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ سکیورٹی جائزوں کے مطابق ان تمام نیٹ ورکس کو مبینہ طور پر انڈین مالی معاونت اور پشت پناہی حاصل ہے جو خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ پاکستانی شہریوں کے لیے ان سفارتی اور سکیورٹی امور کا براہ راست تعلق ملکی دفاعی حکمت عملی، سرحد پار سکیورٹی انتظامات اور مجموعی معاشی استحکام سے جڑا ہوا ہے، جہاں خطے کی کشیدگی ملکی وسائل پر اثرانداز ہوتی ہے۔

دوسری جانب، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر پر مشتمل آر فور گروپ کے وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے بحران اور فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے مشترکہ مؤقف اپنایا ہے۔ ان سفارتی مشاورتوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے فلسطینی مسئلے کا جامع اور منصفانہ حل ناگزیر ہے تاکہ کشیدگی کے دائرہ کار کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ چاروں ممالک کے وزراء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ موجودہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے عسکری راستہ چھوڑ کر مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

قارئین کے لیے عملی اقدامات
خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور خارجہ پالیسی میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان دینے کے بجائے مستند سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔ اگر آپ سرحدی صورتحال، سفری ہدایات یا بین الاقوامی تعلقات سے متعلق مستند معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وزارت خارجہ کی آفیشل ویب سائٹ mofa.gov.pk کا وزٹ کریں۔ وزارت کی جانب سے جاری ہونے والی ہفتہ وار پریس ریلیزز کا مطالعہ کریں تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری اور بھارت کے ساتھ کشیدگی کا ملکی تجارت اور سفری پالیسیوں پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

آئندہ کن امور پر نظر رکھنی چاہیے
آنے والے دنوں میں دفتر خارجہ کی جانب سے آر فور گروپ کے آئندہ وزرائے وزرائے خارجہ اجلاس کے شیڈول اور اقوام متحدہ کی سطح پر ہونے والی سفارتی پیش رفت پر گہری نظر رکھیں۔ اس کے علاوہ، سکیورٹی اداروں کی جانب سے افغان سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات اور ملک کے اندرونی امن و امان کی صورتحال کا بھی جائزہ لیتے رہیں۔ ان اہم جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں سے باخبر رہ کر آپ پاکستان کے بدلتے ہوئے سفارتی اور سکیورٹی منظرنامے کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔