پاکستان نے امریکی سفیر کے کشمیر سے متعلق متنازع بیان پر واشنگٹن سے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اسلام آباد میں وزارت خارجہ نے 18 جنوری 2024 کو امریکی ناظم الامور کو طلب کر کے باضابطہ احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) پیش کیا۔ پاکستان نے بھارت میں تعینات امریکی سفیر ایرک گارسیٹی کے حالیہ دورہ جموں و کشمیر کے دوران دیے گئے اس بیان پر گہری تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا، جس میں انہوں نے اس متنازع خطے کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے بھی امریکی سفیر کے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کو بھارتی علاقہ قرار دینے کی کوئی بھی یکطرفہ کوشش تاریخی طور پر غلط، قانونی طور پر ناقابلِ دفاع اور علاقائی امن کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

اس سفارتی تنازع کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- احتجاج کی تاریخ: 18 جنوری 2024 کو اسلام آباد میں امریکی سفارت کار کو باضابطہ احتجاجی مراسلہ پیش کیا گیا۔
- مرکزی کردار: بھارت میں امریکی سفیر ایرک گارسیٹی، جن کے نئی دہلی اور جموں میں دیے گئے بیانات نے اس تنازع کو جنم دیا۔
- پاکستان کا ردعمل: دفتر خارجہ کی جانب سے باضابطہ سفارتی ڈیمارش اور سینیٹر شیری رحمان سمیت اعلیٰ سیاسی قیادت کی طرف سے شدید عوامی مذمت۔
- بنیادی مسئلہ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہائیوں پرانی قراردادوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا۔

متنازع بیان پر امریکی سفیر کو ڈیمارش

دفتر خارجہ نے اس سفارتی غلطی پر فوری کارروائی کی۔ اسلام آباد میں امریکی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کر کے پاکستان نے واضح کر دیا کہ ایسے بیانات مسئلہ کشمیر پر عالمی طاقتوں کے غیر جانبدارانہ کردار کو مجروح کرتے ہیں۔

سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ احتجاجی مراسلے میں امریکی حکومت کو جموں و کشمیر پر اس کے تاریخی موقف کی یاد دہانی کرائی گئی۔ یہ خطہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازع علاقہ ہے۔ پاکستانی حکام نے زور دیا کہ غیر ملکی سفارت کاروں کے غیر محتاط بیانات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو جائز قرار دینے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن جموں و کشمیر کے تنازع کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔

شیری رحمان کا امریکی سفیر کے بیان پر سخت ردعمل

سینیٹر شیری رحمان نے امریکی سفارت کار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اسلام آباد سے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے امریکی سفیر کے ریمارکس کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور زمینی حقائق سے عاری قرار دے کر مسترد کر دیا۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ "عالمی طاقتوں کے سینئر سفارت کاروں کی جانب سے ایسے بیانات امن یا انصاف کے مقصد میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔" انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو بین الاقوامی قوانین اور جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کا احترام کرنا چاہیے۔ پی پی پی رہنما نے نشاندہی کی کہ مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں کشمیری بھارتی افواج کے بدترین فوجی محاصرے اور انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ واشنگٹن تاریخی طور پر کشمیر کو ایک متنازع علاقہ تسلیم کرتا آیا ہے۔ نئی دہلی کو خوش کرنے کے لیے اس دیرینہ پالیسی سے انحراف صرف خطے میں بھارت کے جارحانہ عزائم کو شہ دے گا۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اس کا نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے سفارت کار بین الاقوامی اتفاق رائے کے خلاف بیانات نہ دیں۔

جموں و کشمیر کا جیو پولیٹیکل تناظر

یہ سفارتی کشیدگی ایک ایسے حساس وقت پر سامنے آئی ہے جب بھارت کی جانب سے اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پاکستان مسلسل عالمی برادری کو بھارتی مظالم سے آگاہ کر رہا ہے۔ بھارت کا یہ یکطرفہ اقدام شملہ معاہدے اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھا۔

مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے کر امریکی سفیر نے وادی میں جاری انسانی حقوق کے بحران کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر سمیت آزاد بین الاقوامی مبصرین نے مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ کی بندش، بلاجواز گرفتاریوں اور سنگین خلاف ورزیوں پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے لیے مسئلہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ لاکھوں کشمیریوں کے حق خودارادیت کا معاملہ ہے۔ امریکہ کے موقف میں کوئی بھی تبدیلی اسلام آباد میں گہری نظر سے دیکھی جاتی ہے کیونکہ اس کے براہ راست اثرات جنوبی ایشیا کے طاقت کے توازن پر پڑتے ہیں۔

عوام کے لیے اہم معلومات اور مستقبل کا منظرنامہ

پاکستانی سیاست اور خارجہ پالیسی پر نظر رکھنے والے شہریوں کے لیے یہ پیش رفت انتہائی اہم ہے۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ امریکی محکمہ خارجہ پاکستان کے اس احتجاجی مراسلے پر کیا ردعمل دیتا ہے۔ کیا واشنگٹن اپنے سفیر کے بیان کی وضاحت پیش کرتا ہے یا اس پر قائم رہتا ہے، اس سے پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کا تعین ہوگا۔

اس کے علاوہ، ملکی سیاست پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان اس وقت معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز سے نبردآزما ہے، لیکن کشمیر کا معاملہ ہمیشہ ایک قومی یکجہتی کا محور رہا ہے۔ اس محاذ پر کسی بھی قسم کی لچک پارلیمنٹ اور میڈیا میں شدید بحث کو جنم دے سکتی ہے۔ سفارتی محاذ پر ہونے والی تمام تر تازہ ترین تفصیلات کے لیے نیا پاکستان کی رپورٹنگ پر نظر رکھیں۔