پاکستان میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کو زندہ رہنے کے لیے سالانہ 18 لاکھ بلڈ بیگز کی ضرورت ہوتی ہے، جو ملک کے صحت کے نظام اور بلڈ بینکنگ کے نیٹ ورک پر ایک بڑا بوجھ ہے۔ ملک بھر کے طبی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس جینیاتی خون کی بیماری سے نمٹنے کے لیے محفوظ خون کی مستقل اور قابل اعتماد فراہمی ناگزیر ہے۔ عطیہ دہندگان کے باقاعدہ تعاون کے بغیر، ہزاروں بچے اور نوجوان باقاعدہ بلڈ ٹرانسفیوژن حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
بحران کا حجم اور ضروریات
بلڈ بیگز کی اتنی بڑی مقدار یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں بیٹا تھیلیسیمیا اور خون کی دیگر بیماریاں کتنی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں اسپتال اور خصوصی علاج گاہیں مسلسل خون کی کمی کا شکار رہتی ہیں۔ مریضوں کے اہل خانہ کو اکثر خود ہی بلڈ ڈونرز کا بندوبست کرنے کے لیے شدید ذہنی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 1.8 ملین بلڈ بیگز کی اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے ایک مربوط قومی حکمت عملی اور رضااکارانہ خون کے عطیات کی تحریک کی ضرورت ہے۔
شادی سے قبل تھیلیسیمیا کی اسکریننگ کی اہمیت
خون کی فراہمی کو بہتر بنانے کے علاوہ، سینئر طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تھیلیسیمیا کے بڑھتے ہوئے کیسز کو روکنے کے لیے شادی سے قبل اسکریننگ ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر انصاری اور دیگر ماہرین امراض خون کا کہنا ہے کہ شادی سے پہلے نوجوان جوڑوں کا ٹیسٹ کروانا تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ بچوں کی پیدائش کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔ صوبائی سطح پر صحت کے نظام میں اسکریننگ کے پروٹوکولز کو نافذ کرنے سے نوجوانوں کو بروقت فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ اس طبی بحران کو کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں تو فاطمیہ فاؤنڈیشن، سندس فاؤنڈیشن یا کسی بھی تصدیق شدہ بلڈ بینک میں باقاعدہ خون کے عطیہ دہندہ کے طور پر رجسٹر ہوں۔ اپنے خاندان اور دوستوں کو بھی خون کے عطیات دینے کی ترغیب دیں۔ اس کے علاوہ، اپنے حلقہ احباب میں شادی سے پہلے جینیاتی مطابقت کی جانچ کے لیے آگاہی پھیلائیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی وزارت صحت کی جانب سے شادی سے قبل اسکریننگ کے لازمی نفاذ کے لیے مجوزہ قانون سازی پر نظر رکھیں۔ آنے والے مہینوں میں بلڈ سیفٹی اور ڈونرز کی رجسٹریشن کے حوالے سے نئے طبی رہنما خطوط بھی جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
