حکومت کی جانب سے اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور بٹ کوائن مائننگ کے لیے 2,000 میگاواٹ بجلی مختص کرنے کے اعلان نے پاکستان پاور گرڈ کی پائیداری پر بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ حکام اسے ڈیجیٹل معیشت کی طرف ایک اسٹریٹجک قدم قرار دے رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسا ملک جہاں پہلے ہی بجلی کے نرخ بلند اور لوڈشیڈنگ کا مسئلہ موجود ہے، وہ اتنی بڑی مقدار میں بجلی ان توانائی کے بھوکے منصوبوں کو فراہم کر سکتا ہے؟
کیا پاکستان پاور گرڈ اس بوجھ کو برداشت کر سکے گا؟
2,000 میگاواٹ بجلی کی مختص کردہ مقدار کئی بڑے پاور پلانٹس کی کل پیداواری صلاحیت کے برابر ہے۔ عام پاکستانی صارف کے لیے سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ کیا اس سے بجلی کی قلت میں اضافہ ہوگا یا ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ وزارتِ توانائی نے ابھی تک اس کا تفصیلی روڈ میپ جاری نہیں کیا کہ یہ بجلی کہاں سے آئے گی اور اس سے گھریلو اور صنعتی صارفین کی سپلائی کیسے متاثر نہیں ہوگی۔
- صلاحیت: 2,000 میگاواٹ بجلی ہائی کمپیوٹ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے مختص۔
- ہدف: اے آئی ٹریننگ کی سہولیات اور کرپٹو کرنسی مائننگ آپریشنز۔
- خطرہ: گرمیوں کے دوران قومی گرڈ پر شدید دباؤ کا امکان۔
معاشی پہلو اور حقائق
حامیوں کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کا قیام پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کا مرکز بنا سکتا ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔ تاہم، کرپٹو مائننگ میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی شرح دیگر صنعتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اگر حکومت ان منصوبوں کے لیے سستی اور قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) کے ذرائع تلاش کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو بجلی کی قیمتیں دیگر مقامی اسٹارٹ اپس کے لیے رکاوٹ بن جائیں گی۔
اب آگے کیا ہوگا؟
اگر آپ ایک بزنس مین یا ٹیک سیکٹر سے وابستہ ہیں، تو نیپرا (NEPRA) کی جانب سے صنعتی ٹیرف پر ہونے والی سماعتوں پر نظر رکھیں۔ حکومت آنے والے مہینوں میں ڈیٹا سینٹر آپریٹرز کے لیے مخصوص مراعات کا اعلان کر سکتی ہے۔ ان تین چیزوں پر نظر رکھیں:
- ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی کا نیا قیمتوں کا ڈھانچہ۔
- کیا یہ بجلی موجودہ گرڈ سے لی جائے گی یا نئے قابلِ تجدید پلانٹس سے؟
- کرپٹو مائننگ کے لائسنس کے لیے ریگولیٹری فریم ورک، جو فی الحال قانونی طور پر غیر واضح ہے۔
جب تک حکومت یہ شفافیت نہیں لاتی کہ 2,000 میگاواٹ کا انتظام کیسے ہوگا، یہ فیصلہ ملکی توانائی کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا جوکھم سمجھا جا رہا ہے۔
