پاکستان میں فعال سم کارڈز کی تعداد 210 ملین تک پہنچ گئی ہے، جو ملک میں ڈیجیٹل رابطوں کے وسیع پھیلاؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اب 'پاک آئی ڈی' (Pak ID) سسٹم کو استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ شہریوں کے لیے سم کا حصول اور اس کا انتظام آسان بنایا جا سکے۔
پاکستان میں فعال سمز کی تعداد میں اضافہ
پاکستان میں فعال سمز کی تعداد 210 ملین تک پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی معیشت اور روزمرہ کے امور میں موبائل ٹیکنالوجی کا کردار کتنا اہم ہو چکا ہے۔ بینکنگ، سرکاری خدمات اور مواصلات کے لیے موبائل فون اب ناگزیر ہیں۔ یہ سنگ میل ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے دور دراز علاقوں میں نیٹ ورک کی توسیع کی کوششوں کا نتیجہ بھی ہے۔ تاہم، اتنی بڑی تعداد میں کنکشنز کی سیکیورٹی اور تصدیق کو یقینی بنانا پی ٹی اے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
پاک آئی ڈی کے ذریعے سم کا اجرا کیسے ہوگا؟
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے حال ہی میں سم کے اجرا کے عمل کو جدید بنانے پر بات چیت کی ہے۔ تجویز یہ ہے کہ نادرا کی 'پاک آئی ڈی' ایپ کا استعمال کیا جائے تاکہ شہری گھر بیٹھے سم حاصل کر سکیں۔ اس سے صارفین کو فزیکل فرنچائزز کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ بائیو میٹرک تصدیق کے موجودہ روایتی عمل کو ڈیجیٹل بنانے سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ یہ عمل زیادہ محفوظ بھی ہو جائے گا۔
ای سم (eSIM) کی جانب تیزی سے منتقلی
سم کے اجرا کے علاوہ، قانون سازوں نے پی ٹی اے اور ٹیلی کام کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ eSIM ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار تیز کریں۔ eSIM کے ذریعے صارفین کسی بھی نیٹ ورک پر آسانی سے سوئچ کر سکتے ہیں اور بین الاقوامی رومنگ پلانز کو ڈیجیٹل طریقے سے ایکٹیویٹ کر سکتے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق، پاکستان میں eSIM کا پھیلاؤ عالمی معیار کے مقابلے میں سست ہے، اور اسے تیز کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
آپ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
اگر پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے سم کے اجرا کا منصوبہ عملی جامہ پہنتا ہے، تو آپ کو نئی سم حاصل کرنے کے لیے فرنچائز جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ آپ ایپ کے ذریعے اپنی شناخت کی تصدیق کر سکیں گے اور براہ راست اپنے ڈیوائس پر سم پروفائل حاصل کر سکیں گے۔ پی ٹی اے کی جانب سے اس پروگرام کے پائلٹ پروجیکٹ کے اعلانات پر نظر رکھیں، جس کا آغاز ممکنہ طور پر بڑے شہروں سے کیا جائے گا۔
آگے کیا ہوگا؟
- پالیسی کا نفاذ: پی ٹی اے کی جانب سے پاک آئی ڈی کے انضمام کے لیے تکنیکی ضوابط کے نوٹیفکیشن کا انتظار ہے۔
- آپریٹرز کی تیاری: یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کون سا ٹیلی کام آپریٹر سب سے پہلے اس ڈیجیٹل سہولت کو متعارف کرواتا ہے۔
- سیکیورٹی اقدامات: ڈیجیٹل سم کے اجرا کے ساتھ ہی پی ٹی اے کی جانب سے شناخت کی چوری روکنے کے لیے نئے ملٹی فیکٹر تصدیقی اقدامات متوقع ہیں۔
