امریکہ اور ایران کے درمیان تیسرے فریق کے طور پر ثالثی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں اس گہری بداعتمادی کی دیوار سے ٹکرا رہی ہیں جس نے دہائیوں سے ان دونوں ممالک کے تعلقات کو جکڑ رکھا ہے۔
اگرچہ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کی مسلسل کوشش کی ہے، لیکن موجودہ تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ امن عمل میں کسی بھی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔ اس کے بجائے، یہ تعطل ان دو عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد کے بنیادی فقدان میں پیوست ہے۔
امریکہ ایران تعلقات میں تعطل کی وجوہات
مرکزی مسئلہ شک و شبہات کا وہ تاریخی چکر ہے جس کی وجہ سے روایتی ثالثی کے راستوں پر چلنا مشکل ہو گیا ہے۔ پاکستان کے لیے، مقصد ہمیشہ علاقائی استحکام رہا ہے، کیونکہ دشمنی میں کسی بھی اضافے کا براہِ راست اثر ہماری اپنی سرحدوں کی سلامتی اور معاشی نقطہ نظر پر پڑتا ہے۔ تاہم، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی پیچیدگی—جس میں جوہری مذاکرات، علاقائی اثر و رسوخ اور پابندیاں شامل ہیں—اکثر اس اثر و رسوخ سے بڑھ جاتی ہے جو کوئی ایک ثالث فراہم کر سکتا ہے۔
- تاریخی بداعتمادی: سفارتی منجمد تعلقات کی دہائیوں نے ایک ایسی رکاوٹ پیدا کی ہے جسے صرف تیسرے فریق کی مداخلت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
- علاقائی سلامتی: پاکستان کی شمولیت ایک ایسے تنازعہ کو روکنے کی ضرورت سے چلتی ہے جو پورے خطے کو غیر مستحکم کر دے گا۔
- پالیسی کی حدود: اسلام آباد ایک سہولت کار کے طور پر کام کرتا ہے، لیکن وہ خود مختار اقوام کو اپنے اسٹریٹجک موقف چھوڑنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
پاکستان کے لیے اس کے اثرات
ایک عام پاکستانی کے لیے، امریکہ اور ایران کے تعلقات میں عدم استحکام اکثر توانائی کے کوریڈورز اور علاقائی تجارت کی سلامتی کے بارے میں خدشات میں بدل جاتا ہے۔ جب امریکہ اور ایران آپس میں الجھتے ہیں، تو پاکستان پر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کا دباؤ ایک نازک سفارتی صورتحال پیدا کرتا ہے۔ خارجہ پالیسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو غیر جانبداری کے راستے پر قائم رہنا چاہیے، کیونکہ کسی بھی فریق کا ساتھ دینے سے مستقبل میں دلیل کی آواز بننے کی ہماری صلاحیت کم ہو جائے گی۔
مستقبل کا لائحہ عمل
آپ کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے اعلیٰ سطحی دوروں اور بیانات پر نظر رکھنی چاہیے۔ پاکستان کے 'خاموش سفارت کاری' کے انداز کو جاری رکھنے کا امکان ہے، جس میں مکمل معاہدے پر مجبور کرنے کے بجائے کشیدگی کو کم کرنے پر توجہ دی جائے گی، جس کے لیے فی الحال کوئی بھی فریق تیار نہیں ہے۔
جیسے جیسے حالات آگے بڑھیں گے، توجہ مواصلات کے کھلے راستے برقرار رکھنے پر رہے گی۔ اگرچہ فوری کامیابیوں کا امکان کم ہے، لیکن ایک ثالث کی مسلسل موجودگی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ معمولی غلط فہمیاں براہِ راست فوجی تصادم کی شکل اختیار نہ کر لیں۔
