پاکستانی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف ادوار میں حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں کا براہ راست اثر عام آدمی کی زندگی اور غربت کی شرح پر پڑا۔ جب ماہرین معیشت اسلام آباد میں پچھلی حکومتوں کے فیصلوں کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ کہانی ترقی کی بجائے زیادہ تر قرضوں، مالیاتی بدانتظامی اور بحرانوں کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ ہر دور میں ملک کو بیرونی قرضوں اور اندرونی چیلنجز کا سامنا رہا، جس کا بوجھ ہمیشہ نچلے اور متوسط طبقے نے اٹھایا۔
دہائیوں کے دوران غربت کی شرح میں اتار چڑھاؤ
ملک میں غربت کی لکیر اور اس کے اتار چڑھاؤ کو سمجھنے کے لیے صرف سرکاری دعووں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا بلکہ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ کے عام بازاروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ مختلف ادوار میں عارضی معاشی ترقی کے ادوار بھی آئے جو زیادہ تر بیرونی امداد یا کھپت پر مبنی تھے، لیکن یہ ترقی نچلے طبقے کے لیے مستقل آمدنی کا ذریعہ نہ بن سکی۔ جب بھی معیشت کو بیرونی ادائیگیوں کے بحران کا سامنا ہوا، حکومتوں نے عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کیا، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا اور غربت کے اعداد و شمار مزید اوپر چلے گئے۔
- معاشی اصلاحاتی پروگراموں کے دوران اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا۔
- اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود بڑھانے سے صنعتی ترقی سست ہوئی اور بے روزگاری بڑھی۔
- بجٹ کے خسارے کو کم کرنے کے لیے تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کات تراشی کی گئی۔
عام شہری پر پڑنے والا مالی بوجھ
ایک عام پاکستانی کے لیے کسی بھی حکمران کی کارکردگی کا پیمانہ یوٹیلیٹی بلز، پٹرول کی قیمتیں اور گروسری کا تھیلا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے پیش کردہ بڑے معاشی اعداد و شمار اکثر اس حقیقت سے میل نہیں کھاتے جو ایک مقررہ تنخواہ والا شخص ماہانہ اخراجات پورے کرتے وقت محسوس کرتا ہے۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو تنخواہ دار طبقے اور دیہاڑی دار مزدور کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ آمدنی وہیں رہ جاتی ہے جبکہ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
معاشی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے ذاتی بجٹ کو محتاط طریقے سے چلائیں۔ غیر ضروری قرضوں سے بچیں، ماہانہ بچت کی عادت ڈالیں اور اپنے اخراجات کو آمدنی کے مطابق محدود رکھیں۔ اگر آپ چھوٹا کاروبار چلاتے ہیں تو بلند شرح سود کے اس دور میں جارحانہ سرمایہ کاری کی بجائے کیش فلو کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات، وفاقی بجٹ کے اعلانات اور ادارہ شماریات کی جانب سے ماہانہ بنیادوں پر جاری ہونے والے مہنگائی کے اعداد و شمار پر نظر رکھیں۔ یہ اشاریے آپ کو بتائیں گے کہ پالیسی ساز حقیقی اصلاحات کی طرف جا رہے ہیں یا پرانے قرضوں کے چکر کو ہی دوبارہ دہرایا جا رہا ہے۔ حالات سے باخبر رہیں تاکہ آپ بروقت اپنے مالی فیصلے کر سکیں۔
