پاکستان کی معاشی ترقی اس وقت تک خطرے میں رہے گی جب تک سرکاری اور نجی شعبوں میں ادارہ جاتی کردار سازی کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ ہر نیا قومی بجٹ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کا جائزہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا دورہ اس وقت تعطل کا شکار ہو جاتا ہے جب ریگولیٹری ادارے دیانتداری اور مستقل مزاجی سے کام نہیں کرتے۔ اسلام آباد اور کراچی کے معاشی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے ٹیکس وصولی اور نیپرا اور اوگرا کی طرف سے یوٹیلیٹی نگرانی قوانین کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ انتظامی شفافیت کے فقدان کی وجہ سے ناکام ہوتی ہے۔ اگر آپ لاہور میں کوئی چھوٹا کاروبار چلاتے ہیں یا فیصل آباد میں فیکٹری کے مالک ہیں، تو آپ بخوبی جانتے ہیں کہ پالیسیوں کا عدم استحکام آپ کے منافع کو عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ادارے شفافیت کے ساتھ کام کریں تاکہ عام شہری اور سرمایہ کار بغیر کسی خوف کے اپنی معاشی منصوبہ بندی کر سکیں۔
معاشی استحکام کے لیے کردار سازی کیوں ضروری ہے
فنانشل مارکیٹس اور غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری ہمیشہ اس نظام کی طرف متوجہ ہوتی ہیں جو پیشگوئی کے قابل ہو، اور یہ صرف شفاف طرزِ حکمرانی اور کردار سازی ہی سے ممکن ہے۔ جب سرکاری ملازم دیانت داری سے قوانین پر عمل درآمد کراتے ہیں، تو کاروباری حضرات کو قانونی پیچیدگیوں پر کم خرچ کرنا پڑتا ہے اور وہ مقامی نوجوانوں کو روزگار دینے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اس وقت اسٹیٹ بینک کی طرف سے شرح سود میں اضافہ اور مہنگائی کی لہر اس لیے گھروں کے بجٹ کو نچوڑ رہی ہے کیونکہ انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے قومی وسائل کا زیاں جاری ہے۔
- شفاف خریداری کے عمل سے سرکاری قرضوں میں کمی آتی ہے۔
- کرپشن کے خلاف سخت اقدامات چھوٹے کاروبار کے سرمائے کا تحفظ کرتے ہیں۔
- مستقل ریگولیٹری فریم ورک غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرتا ہے۔
سماجی انصاف کے خلا کو پر کرنا
معاشی ترقی کو سماجی انصاف سے الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بنیادی سہولتوں تک مساوی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جب عدالتیں اور سرکاری دفاتر جانبداری کے بغیر کام کریں گے، تو ریاست پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا جس سے ٹیکس کلیکشن میں بھی بہتری آئے گی۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کھوکھلے وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں جبکہ ان کے یوٹیلیٹی بلز آسمان کو چھو رہے ہیں۔ اصل اصلاحات کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی سفارش کی بجائے میرٹ کو ترجیح دی جائے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
ایک عام شہری، ووٹر یا کاروباری شخص کی حیثیت سے آپ کو اپنے مقامی نمائندوں سے شفافیت کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ اپنے مالی معاملات کو درست رکھیں، قانون کے مطابق ٹیکس ادا کریں اور کمیونٹی کی سطح پر احتساب کے عمل میں حصہ لیں۔ صرف وفاقی اعלانات پر انحصار نہ کریں بلکہ اپنے کاروبار اور گھرانے میں اخلاقی اقدار کو فروغ دیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
موجودہ پارلیمانی سیشن میں سول سروس اصلاحات اور کرپشن مخالف قوانین میں ترامیم سے متعلق مباحثوں پر گہری نظر رکھیں۔ یہ بھی دیکھیں کہ وفاقی کابینہ سرکاری کارپوریشنوں کے لیے شفافیت کے قوانین پر کس طرح عمل درآمد کرتی ہے، کیونکہ یہ اقدامات ہی بتائیں گے کہ اصل تبدیلی آ رہی ہے یا نہیں۔
