پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد میں دس گنا اضافہ ہوا ہے، جس کی تصدیق کسٹمز کے حالیہ اعداد و شمار سے ہوتی ہے۔ 2026 کے پہلے نصف میں چینی ساختہ پلگ ان ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی آمد نے مقامی آٹو مارکیٹ کی سمت بدل دی ہے۔
پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں کیوں مقبول ہو رہی ہیں؟
اس رجحان کی بنیادی وجہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ عام پاکستانی شہری، جو مہنگے ایندھن کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اب الیکٹرک گاڑیوں کو ایک سستا اور دیرپا متبادل سمجھ رہا ہے۔ چینی کمپنیاں ایسی گاڑیاں متعارف کروا رہی ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور مقامی طور پر اسمبل شدہ روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں کافی سستی ہیں۔
- پٹرول کے مقابلے میں چلنے کا خرچ بہت کم ہے۔
- دیکھ بھال کے اخراجات میں نمایاں کمی۔
- جدید فیچرز اور سافٹ ویئر جو عام گاڑیوں میں دستیاب نہیں۔
- لمبی مسافت کے لیے پلگ ان ہائبرڈ کا بہترین انتخاب۔
مقامی آٹو انڈسٹری پر اثرات
درآمدات میں اس اضافے نے مقامی آٹو اسمبلرز کو بھی اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب تک مقامی کمپنیاں پرانی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی آئی ہیں، لیکن اب انہیں بھی الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے تیزی دکھانی ہوگی۔ اگرچہ انفراسٹرکچر کے مسائل موجود ہیں، لیکن کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں چارجنگ کی سہولیات آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی ہیں۔
خریداروں کے لیے مشورہ
اگر آپ الیکٹرک گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے اسپیئر پارٹس کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔ ایسی گاڑی کا انتخاب کریں جس کی آفٹر سیلز سروس موجود ہو، کیونکہ بیٹری اور سینسر جیسے پرزے خراب ہونے کی صورت میں آپ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیشہ کمپنی سے بیٹری کی وارنٹی کے بارے میں واضح تحریری ضمانت لیں۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
آئندہ وفاقی بجٹ اور حکومت کی درآمدی پالیسی پر نظر رکھیں۔ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر اور ماحولیاتی بہتری کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر حکومت نے ٹیکسوں میں تبدیلی کی تو چھوٹی اور درمیانے درجے کی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، عوامی مقامات پر چارجنگ اسٹیشنز کا جال پھیلنا اس انڈسٹری کو مزید مستحکم کرے گا۔
