پاکستان میں گرینر پاکستان (Greener Pakistan) کے تصور کو اپنانا اب محض ایک نعرہ نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ملک بھر میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی خطرناک سطح نے عام شہریوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔
گرینر پاکستان کا چیلنج
پاکستان کو اس وقت دو بڑے ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ پہلا شدید گرمی کی لہریں اور دوسرا اسموگ۔ لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) اکثر عالمی معیار سے کہیں زیادہ ہو جاتا ہے، جو سانس کی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ زرعی شعبہ بھی غیر متوقع بارشوں اور پانی کی قلت سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ گرینر پاکستان مہم کا مقصد شجرکاری، قابل تجدید توانائی کا فروغ اور صنعتی اخراج پر سختی سے قابو پانا ہے۔
- اہم ماحولیاتی حقائق:
- گزشتہ دہائی میں اوسط درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ۔
- اسموگ کی شدت میں ہر سال نومبر سے فروری کے دوران اضافہ۔
- پڑوسی ممالک کے مقابلے میں فی کس جنگلات کی کمی۔
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
ذاتی سطح پر اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سنگل یوز پلاسٹک کا استعمال ترک کریں، جو نالوں کو بند کرنے اور زمین کی زرخیزی ختم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اپنی گاڑیوں کی باقاعدگی سے ٹیوننگ کروائیں تاکہ دھواں کم ہو۔ اپنے محلے میں مقامی درخت، جیسے نیم یا پیپل لگائیں، جو درجہ حرارت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
صوبائی حکومتوں کی جانب سے 'ٹین بلین ٹری سونامی' منصوبے کی توسیع اور صنعتی زونز کے لیے نئے قوانین پر نظر رکھیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت 15 دسمبر 2026 تک نئی پالیسی کا اعلان کر سکتی ہے، جس میں سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے نئی مراعات شامل ہو سکتی ہیں۔
تازہ ترین حکومتی اقدامات اور ماحولیاتی منصوبوں کی پیش رفت جاننے کے لیے وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کی ویب سائٹ mocc.gov.pk کو وقتاً فوقتاً دیکھتے رہیں۔
