پاکستان کا پہلا ہارٹ ٹرانسپلانٹ سینٹر باضابطہ طور پر لاہور میں کھول دیا گیا ہے جو ملک میں پیچیدہ امراض قلب کے علاج کی تاریخ میں ایک بڑا سنگ میل ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (جے آئی سی) میں اس جدید ترین کارڈیک ٹرانسپلانٹ سینٹر کا افتتاح کیا۔

چند دہائیوں سے دل کے آخری درجے کے عارضے میں مبتلا وہ مریض جنہیں پیوند کاری کی ضرورت ہوتی تھی، انہیں مجبورا کروڑوں روپے خرچ کر کے بیرون ملک جانا پڑتا تھا۔ عام پاکستانی خاندانوں کے لیے اس قسم کا مہنگا علاج کرانا ناممکن تھا۔ لاہور میں اس خصوصی یونٹ کے قیام سے دل کے آپریشن کے شعبے میں ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔

مستحق مریضوں کے لیے مفت علاج کی سہولت

افتتاحی تقریب کے دوران سب سے اہم اعلان یہ کیا گیا کہ حکومت پنجاب مستحق مریضوں کے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے تمام اخراجات خود برداشت کرے گی۔ دل کے آپریشن اور بعد ازاں درکار طبی دیکھ بھال پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، جو غریب گھرانوں کے بس کی بات نہیں۔

حکومت کے اس نئے فلاحی اقدام کے تحت مالی طور پر پسماندہ اور مستحق قرار دیے جانے والے افراد کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں اس سلسلے میں خصوصی ڈیسک قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ شفاف طریقے سے جانچ پڑتال کر کے ضرورت مند مریضوں کو اس اسکیم میں شامل کیا جا سکے۔

نئے کارڈیک ٹرانسپلانٹ سینٹر کی خصوصیات

  • جدید ترین آپریشن تھیٹرز جو جدید لائف سپورٹ سسٹمز سے آراستہ ہیں۔
  • آپریشن کے بعد کی خصوصی انتہائی نگہداشت کی اکائیاں (آئی سی یو) جو آرگن ٹرانسپلانٹ کے مریضوں کے لیے بنائی گئی ہیں۔
  • ماہر امراض قلب اور میڈیکل ٹیمیں جو اعضاء کے عطیہ اور ڈونر میچنگ کے عمل کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
  • مستحق مریضوں کی مالی معاونت اور رہنمائی کے لیے خصوصی کاؤنٹرز۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز دل کی سنگین بیماری میں مبتلا ہے اور ڈاکٹروں نے اسے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا مشورہ دیا ہے، تو آپ فوری طور پر لاہور میں واقع جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے رابطہ کریں۔ وہاں موجود ہیلپ ڈیسک پر جاکر طبی معیار، مالی معاونت کے لیے درکار کاغذات اور رجسٹریشن کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ یہ ادارہ مقامی سطح پر اعضاء کے عطیہ کرنے کے نظام کو کس حد تک فروغ دیتا ہے، جو کہ پاکستان میں ٹرانسپلانٹ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ اس کے علاوہ طبی ماہرین اس بات پر بھی نظر رکھیں گے کہ حکومت اس منصوبے کو بغیر کسی تاخیر کے جاری رکھنے کے لیے فنڈز کی فراہمی کیسے یقینی بناتی ہے۔