پاکستان کی fiscal position in fy26 ایک ایسے تضاد کو ظاہر کرتی ہے جہاں بظاہر استحکام کے پیچھے گہری ساختی کمزوریاں چھپی ہوئی ہیں۔ اگرچہ جولائی 2025 سے مئی 2026 تک کے 11 مہینوں کے دوران مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 1.6 فیصد رہ گیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار عام پاکستانی کی معاشی حقیقت کو بیان نہیں کرتے۔
مالی سال 26-2025 کی مالیاتی صورتحال
خسارے میں کمی، اگرچہ تکنیکی طور پر ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن یہ بڑی حد تک سخت ٹیکس اقدامات اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔ عام شہری کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ حکومتی کھاتے کاغذوں پر متوازن نظر آتے ہیں، لیکن بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے معاشی ترقی کی رفتار سست ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور وزارت خزانہ نے لیکویڈیٹی پر سخت کنٹرول رکھا ہوا ہے، مگر قرض لینے کی بلند شرح نجی شعبے کی ترقی کو دبا رہی ہے۔
- رپورٹنگ کا دورانیہ: یکم جولائی 2025 سے 31 مئی 2026 تک
- مالیاتی خسارہ: جی ڈی پی کا 1.6 فیصد
- مرکزی محرک: ٹیکسوں میں اضافہ اور ترقیاتی اخراجات میں کمی
اعداد و شمار پوری حقیقت کیوں نہیں بتاتے؟
جب آپ fiscal position in fy26 کا جائزہ لیتے ہیں، تو آپ کو مہنگائی اور بلند شرح سود کے اثرات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ خسارے میں یہ کمی اکثر ان 'ٹیکس پر مبنی' پالیسیوں کا نتیجہ ہوتی ہے جو بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرتی ہیں، جس کا بوجھ براہ راست کم اور درمیانی آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔ اگر آپ کاروبار کر رہے ہیں یا گھریلو بجٹ چلا رہے ہیں، تو آپ کو محسوس ہوگا کہ حکومتی دعووں کے برعکس یوٹیلیٹی بلز یا اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ ساختی اصلاحات کے بجائے قلیل مدتی اقدامات پر انحصار کا مطلب یہ ہے کہ معیشت عالمی تیل کی قیمتوں یا کرنسی کے اتار چڑھاؤ جیسے بیرونی جھٹکوں کے لیے اب بھی غیر محفوظ ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
موجودہ معاشی حالات میں، اپنے مالی معاملات میں احتیاط برتیں۔ شرح سود بلند ہونے کی وجہ سے مہنگے ذاتی قرض لینے سے گریز کریں۔ اگر آپ سرمایہ کار ہیں، تو پاکستان سٹاک ایکسچینج (PSX) کے اعلانات پر گہری نظر رکھیں، کیونکہ مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی بازار پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ اپنی مالی منصوبہ بندی میں سال کے اختتام تک مہنگائی کے دباؤ کو شامل رکھیں۔
آگے کیا ہوگا؟
آنے والے مہینوں میں سب سے اہم چیز حکومت کی وہ صلاحیت ہے جس سے وہ نجی سرمایہ کاری کو دبائے بغیر خسارے میں اس کمی کو برقرار رکھ سکے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے ٹیکس اہداف کے بارے میں جاری ہونے والی رپورٹس پر نظر رکھیں۔ اگر حکومت ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو موجودہ مالیاتی استحکام عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ تازہ ترین مالیاتی اعداد و شمار کے لیے وزارت خزانہ کی ویب سائٹ finance.gov.pk کو چیک کرتے رہیں۔
