پاکستان کی ماہی گیری کی برآمدات 563 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جس کے ساتھ ہی ملک نے رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 500 ملین ڈالر کا ہدف باضابطہ طور پر عبور کر لیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے منگل کے روز اس پیش رفت کی تصدیق کی اور اسے ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا۔
پاکستان ماہی گیری برآمدات میں اضافہ
پاکستان ماہی گیری برآمدات کی قدر میں یہ اضافہ مقامی سی فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کی بحالی اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ظاہر کرتا ہے۔ وزارتِ بحری امور کی جانب سے کولڈ چین لاجسٹکس کو جدید بنانے اور مقامی مچھلی کے معیار کو یورپی یونین سمیت دیگر عالمی معیارات کے مطابق لانے کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔
عام شہری کے لیے یہ اعداد و شمار اگرچہ تکنیکی معلوم ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا براہِ راست تعلق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر سے ہے۔ جیسے جیسے مرکزی بینک ادائیگیوں کے توازن کے چیلنجز سے نمٹ رہا ہے، برآمدی آمدنی میں ہر اضافی ملین ڈالر روپے کی قدر کو سہارا دینے اور تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
مقامی صنعت کے لیے اہمیت
اگرچہ سرکاری اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں، لیکن اس شعبے کو پائیدار ماہی گیری کے طریقوں اور گہرے سمندر میں مچھلی پکڑنے والے جہازوں کو جدید بنانے کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزارت کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ اب توجہ 'ویلیو ایڈڈ' مصنوعات پر مرکوز کی جائے گی، یعنی خام مچھلی کے بجائے پروسیس شدہ مصنوعات کی برآمدات بڑھائی جائیں گی، جس سے فی یونٹ آمدنی میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔
- مقررہ ہدف: 500 ملین ڈالر
- حاصل کردہ ہدف: 563 ملین ڈالر
- مستقبل کا فوکس: ویلیو ایڈڈ سی فوڈ برآمدات
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ سرمایہ کار ہیں یا میری ٹائم اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں، تو کولڈ چین انفراسٹرکچر کی ترقی سے متعلق حکومتی ٹینڈرز پر نظر رکھیں۔ وزارتِ بحری امور کی ویب سائٹ maritime.gov.pk پر آنے والے مہینوں میں انفراسٹرکچر گرانٹس کے حوالے سے مزید تفصیلات متوقع ہیں۔ برآمدی سپلائی چین میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد کے لیے ان پالیسی تبدیلیوں سے باخبر رہنا ضروری ہے۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
پاکستان ادارہ شماریات کی اگلی سہ ماہی رپورٹ کا انتظار کریں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ رفتار برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا حکومت عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باوجود ان برآمدی سطحوں کو برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔ مزید برآں، تجارتی نمائشوں پر نظر رکھیں، کیونکہ اکثر یہیں سے ماہی گیری کے شعبے کے لیے نئے برآمدی معاہدے طے پاتے ہیں۔
