پاکستان میں طبی مشوروں کے لیے اے آئی ہیلتھ ایڈوائس (AI health advice) کا بڑھتا ہوا رجحان نوجوانوں کی صحت کی دیکھ بھال کے طریقوں کو مکمل طور پر تبدیل کر رہا ہے۔ اب بہت سے نوجوان سر درد، گلے کی خراش، یا جلد کے مسائل کے لیے کلینک جانے کے بجائے ChatGPT یا Google Gemini جیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز سے مدد لے رہے ہیں۔

اے آئی ہیلتھ ایڈوائس کے خطرات

اگرچہ اے آئی پلیٹ فارمز عمومی معلومات فراہم کر سکتے ہیں، لیکن یہ لائسنس یافتہ طبی ماہرین نہیں ہیں۔ تشخیص کے لیے ان ٹولز پر انحصار اکثر اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال یا ان بیماریوں میں تاخیر کا باعث بنتا ہے جن کے لیے جسمانی معائنے اور لیبارٹری ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے ملک میں جہاں ادویات کا کاؤنٹر پر بلا روک ٹوک ملنا پہلے ہی ایک مسئلہ ہے، یہ ڈیجیٹل تبدیلی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

  • جسمانی معائنے کا فقدان: اے آئی نبض، جلد کی کیفیت یا جسمانی علامات کو نہیں دیکھ سکتا۔
  • غلط معلومات: اے آئی ماڈل اعتماد کے ساتھ غلط طبی حقائق یا خوراک تجویز کر سکتے ہیں۔
  • پرائیویسی کے مسائل: اپنی حساس طبی معلومات اے آئی کے ساتھ شیئر کرنا سیکیورٹی کے خطرات پیدا کرتا ہے۔

نوجوان اے آئی کا انتخاب کیوں کر رہے ہیں؟

اس رجحان کی کئی وجوہات ہیں۔ نجی ہسپتالوں کی بھاری فیسیں اور سرکاری ہسپتالوں میں طویل قطاریں اہم رکاوٹیں ہیں۔ اے آئی ایک فوری، مفت اور غیر فیصلہ کن انٹرفیس فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، خاص طور پر ذہنی صحت یا جلد کے مسائل سے جڑی سماجی ہچکچاہٹ کی وجہ سے، نوجوان ڈاکٹر کے سامنے جانے کے بجائے چیٹ بوٹ سے بات کرنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ اپنی صحت کی معلومات کے لیے ڈیجیٹل ٹولز استعمال کر رہے ہیں تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

  1. اے آئی کو صرف عمومی تحقیق کے لیے استعمال کریں، اسے طبی تشخیص کا متبادل نہ سمجھیں۔
  2. چیٹ بوٹ کی تجویز کردہ ادویات ہرگز نہ خریدیں اور نہ ہی استعمال کریں۔
  3. اگر علامات 48 گھنٹوں سے زیادہ برقرار رہیں تو رجسٹرڈ ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
  4. آن لائن ملنے والی کسی بھی طبی معلومات کی تصدیق عالمی ادارہ صحت (WHO) یا پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے رہنما خطوط سے کریں۔

مستقبل میں کیا ہوگا؟

پاکستان میں پی ٹی اے اور صحت کے محکموں نے ابھی تک طبی خود علاج کے لیے اے آئی کے استعمال پر کوئی واضح پالیسی جاری نہیں کی ہے۔ جیسے جیسے یہ ٹولز مزید جدید ہوں گے، اس بات کا امکان ہے کہ مقامی ڈیجیٹل ہیلتھ اسٹارٹ اپس اور حکومت مل کر تصدیق شدہ اے آئی ہیلتھ اسسٹنٹس متعارف کرائیں تاکہ سہولت اور حفاظت کے درمیان فرق کو ختم کیا جا سکے۔ تب تک، اے آئی کی جانب سے دی گئی کسی بھی طبی تجویز کو انتہائی احتیاط کے ساتھ دیکھیں۔