وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی نیشنل یوتھ پالیسی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جس کا مقصد تعلیم، کاروبار اور ڈیجیٹل مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے۔ اس پالیسی کے تحت حکومت نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا عزم کیا ہے۔
نیشنل یوتھ پالیسی کے اہم نکات
اس پالیسی کا سب سے اہم پہلو خواتین کے لیے 35 فیصد کوٹہ مختص کرنا ہے، جس کا مقصد ملکی ترقی میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔ پالیسی کا بنیادی مرکز نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتیں سکھانا ہے تاکہ وہ فری لانسنگ اور آن لائن کام کے ذریعے خود کفیل بن سکیں۔
کون اپلائی کر سکتا ہے؟
اگرچہ حکومت ابھی اس کے عملی نفاذ پر کام کر رہی ہے، لیکن عام طور پر 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوان اس پالیسی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اہلیت کے لیے درج ذیل چیزیں ضروری ہوں گی:
- نادرا کا جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) یا 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے بے فارم۔
- تعلیمی اسناد (کم از کم میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کی اہلیت ضروری ہو سکتی ہے)۔
- پاکستان کے کسی بھی صوبے، آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان کا رہائشی ہونا۔
- کسی بھی بینک میں اکاؤنٹ یا تصدیق شدہ ڈیجیٹل والیٹ۔
درخواست کیسے دی جائے؟
چونکہ یہ پالیسی ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے، اس لیے حکومت جلد ہی پرائم منسٹر یوتھ پروگرام (PMYP) کی ویب سائٹ پر رجسٹریشن پورٹل کھولے گی۔ آپ کو درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:
- پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی آفیشل ویب سائٹ کو باقاعدگی سے چیک کریں۔
- اپنے شناختی کارڈ کی تفصیلات کو نادرا کے ریکارڈ کے مطابق درست رکھیں۔
- اپنی تعلیمی اسناد اور سرٹیفکیٹس کی ڈیجیٹل کاپیاں تیار رکھیں۔
- حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ڈیجیٹل سکلز سکالرشپ کے لیے الرٹس پر نظر رکھیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
وزیراعظم کے اعلان کے بعد اب متعلقہ وزارتیں جلد ہی درخواستوں کا شیڈول جاری کریں گی۔ کسی بھی غیر سرکاری ویب سائٹ پر اپنی ذاتی یا بینک معلومات دینے سے گریز کریں، کیونکہ حکومت کی تمام سکیمیں صرف '.gov.pk' ڈومین پر ہی دستیاب ہوتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں تاکہ آپ بروقت اپلائی کر سکیں۔
