بحری امور کی وزارت مچھلی برآمد کرنے والوں کو نوازنے کے لیے ایک نئی 'فش ایکسپورٹ انسنٹیو اسکیم' (مچھلی کی برآمدات کے لیے مراعاتی اسکیم) کو حتمی شکل دینے کی تیاری کر رہی ہے، جس کا مقصد سمندری تجارت میں پاکستان کی حالیہ ترقی کو برقرار رکھنا ہے۔

یہ اقدام اس تاریخی کامیابی کے بعد کیا جا رہا ہے جس میں پاکستان کی مچھلی کی برآمدات نے 568 ملین ڈالر کا شاندار ہندسہ عبور کیا۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے، وزیر برائے بحری امور نے باقاعدہ طور پر چار رکناں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی کا کام ایک ایسی کارکردگی پر مبنی (performance-based) اسکیم تیار کرنا ہے جو براہ راست ان لوگوں کو فائدہ پہنچائے جو ملک کی 'بلیو اکانومی' میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ مراعاتی اسکیم کیا ہے؟

عام سبسڈی کے برعکس، آنے والی fish export incentive scheme کارکردگی پر مبنی ماڈل پر تیار کی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کا ارادہ ان برآمد کنندگان کو انعام دینا ہے جو قومی خزانے میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالتے ہیں اور اپنی برآمدات کی مقدار بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

چار رکناں پر مشتمل کمیٹی 'کارکردگی' کے پیمانے طے کرے گی۔ توقع ہے کہ ان پیمانوں میں کل برآمدی مالیت، برآمد کی جانے والی مچھلی کی اقسام، اور بین الاقوامی فوڈ سیفٹی معیارات پر عمل درآمد شامل ہوں گے۔

کون اس اسکیم کے لیے اہل ہو سکتا ہے؟

اگرچہ کمیٹی ابھی معیار طے کر رہی ہے، لیکن 'کارکردگی پر مبنی' لفظ سے یہ واضح ہے کہ کن لوگوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ درج ذیل گروہ اس کے اہل ہو سکتے ہیں:

  • رجسٹرڈ سی فوڈ ایکسپورٹرز: وہ کمپنیاں جن کے پاس محکمہ ماہی گیری اور بحری امور کی وزارت کا درست لائسنس موجود ہو۔
  • بڑے حجم کے تاجر: وہ کاروبار جنہوں نے 568 ملین ڈالر کی برآمدی رقم میں نمایاں حصہ ڈالا ہے۔
  • معیار پر توجہ دینے والے پروڈیوسرز: وہ برآمد کنندگان جو یورپی یونین، چین اور امریکہ جیسے عالمی منڈیوں کے سخت معیار پر پورا اترتے ہیں۔
  • ویلیو ایڈڈ پروسیسرز: وہ کمپنیاں جو صرف خام مچھلی نہیں بلکہ اسے پروسیس (فریزنگ، پیکنگ وغیرہ) کر کے برآمد کرتی ہیں۔

اپنی کمپنی کو درخواست کے عمل کے لیے کیسے تیار کریں؟

چونکہ کمیٹی ابھی کام کر رہی ہے، اس لیے فی الحال کوئی سرکاری ویب سائٹ یا درخواست دینے کی آخری تاریخ نہیں ہے۔ تاہم، اسکیم کے آغاز پر سب سے پہلے فائدہ اٹھانے کے لیے آپ کو اپنے دستاویزات تیار رکھنے چاہئیں:

  1. تصدیق شدہ برآمدی ریکارڈ: گزشتہ 12 سے 24 ماہ کے برآمدی ریکارڈ، جو آپ کے بینک اور کسٹمز سے تصدیق شدہ ہوں۔
  2. ایف بی آر (FBR) سے تعمیل: ٹیکس کے تمام گوشوارے اور ایف بی آر کے ساتھ آپ کی مکمل تعمیل کے ثبوت۔
  3. چیمبر آف کامرس کی رکنیت: متعلقہ تجارتی اداروں (جیسے کراچی چیمبر آف کامرس) کی درست رکنیت۔
  4. معیاری سرٹیفیکیشنز: HACCP یا ISO جیسے بین الاقوامی فوڈ سیفٹی سرٹیفکیٹس۔
  5. بینک ریئلائزیشن سرٹیفکیٹ (BRC): اس بات کا ثبوت کہ برآمدی رقم باقاعدہ بینکنگ چینلز کے ذریعے پاکستان لائی گئی ہے۔

پاکستانی معیشت کے لیے اس کی اہمیت کیا ہے؟

568 ملین ڈالر کا یہ ہندسہ صرف ایک نمبر نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ مچھلی کی برآمدات کا شعبہ پاکستان کو ٹیکسٹائل کے علاوہ معیشت کو مستحکم کرنے کا ایک بہترین راستہ فراہم کرتا ہے۔

اگر یہ اسکیم کامیابی سے نافذ ہو جاتی ہے، تو اس سے کولڈ چین لاجسٹکس، جدید ماہی گیری کی ٹیکنالوجی اور سندھ و بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

آگے کیا ہوگا؟

برآمد کنندگان کو بحری امور کی وزارت کے سرکاری نوٹیفیکیشنز پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگلے اہم مراحل یہ ہوں گے:

  • کمیٹی کی حتمی رپورٹ: جس میں مراعات کی شرح اور طریقہ کار واضح ہوگا۔
  • سرکاری نوٹیفیکیشن: وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سرکاری گزٹ میں اعلان۔
  • درخواست کا آغاز: وزارت ایک پورٹل یا طریقہ کار کا اعلان کرے گی جس کے ذریعے برآمد کنندگان اپنا کلیم جمع کروا سکیں گے۔