پاکستان میں سیاسی کارٹون بنانے والے فنکار اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ ملک بھر میں میڈیا کے لیے مختص جگہیں سکڑ رہی ہیں۔ روایتی اخبارات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے فنکاروں کے لیے طنز و مزاح کے ذریعے سیاسی صورتحال پر بات کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ادارتی پالیسیوں میں تبدیلیاں اور سنسرشپ
بڑے نیوز رومز نے ایسے موضوعات پر احتیاط برتنی شروع کر دی ہے جو کسی بھی قسم کے تنازع کو جنم دے سکتے ہیں۔ سیاسی کارٹون ہمیشہ سے معاشرتی اور سیاسی ناانصافیوں کو اجاگر کرنے کا موثر ذریعہ رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں حکومتی اور غیر اعلانیہ پابندیوں کی وجہ سے اس صنف میں نمایاں کمی آئی ہے۔ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں کے اخبارات اب زیادہ تر محفوظ موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقلی
روایتی پرنٹ میڈیا سے دباؤ بڑھنے کے بعد بہت سے کارٹونسٹوں نے سوشل میڈیا کا رخ کیا ہے۔ ایکس اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز فنکاروں کو براہ راست اپنے ناظرین تک پہنچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، یہاں بھی نئی پالیسیوں اور سائبر کرائم قوانین کے تحت مواد کو ہٹانے یا اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے خدشات برقرار رہتے ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ فن اور آزادی اظہار کے حامی ہیں، تو آزاد پلیٹ فارمز اور انفرادی فنکاروں کو سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ ان کے کام کو شیئر کریں تاکہ اس اہم صنف کو زندہ رکھا جا سکے اور نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی ہو۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
آنے والے مہینوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا ڈیجیٹل قوانین میں کوئی نرمی آتی ہے یا فنکار آن لائن سنسرشپ کے متبادل راستے تلاش کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ میڈیا ریگولیٹرز کے حالیہ اقدامات اس صنف کا مستقبل طے کریں گے۔
