پاکستان میں پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل برسوں سے مسودے کی شکل میں پڑا ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں شہری اپنی حساس معلومات کے غلط استعمال کے خلاف کسی قانونی تحفظ سے محروم ہیں۔ جہاں دنیا بھر میں ڈیجیٹل معیشت سخت ڈیٹا گورننس کی طرف بڑھ رہی ہے، وہیں پاکستان ایک ایسے قانونی خلا میں کھڑا ہے جہاں آپ کے مالیاتی، طبی اور بائیو میٹرک ڈیٹا کے تحفظ کا کوئی واضح قانون موجود نہیں ہے۔
پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کی موجودہ صورتحال
ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے ہونے والی ہر بحث کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے: ہمارے پاس اب بھی کوئی جامع قانون نہیں ہے۔ یہ مسودہ قانون، جس کا مقصد یہ ریگولیٹ کرنا ہے کہ حکومتی اور نجی ادارے صارفین کی معلومات کو کیسے سنبھالیں، 2018 سے زیر التواء ہے۔ حکومتیں بدلتی رہی ہیں اور وعدے کیے جاتے رہے ہیں، لیکن یہ بل کمیٹیوں اور بیوروکریٹک تاخیر کے چکروں میں پھنسا ہوا ہے۔
اس قانون کی عدم موجودگی میں، عام پاکستانی ان کمپنیوں کی مرضی پر منحصر ہیں جن کی پرائیویسی پالیسیاں اکثر مبہم ہوتی ہیں۔ جب آپ کسی ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں یا کسی حکومتی پورٹل پر رجسٹر ہوتے ہیں، تو آپ بغیر کسی قانونی ضمانت کے اپنا ڈیٹا حوالے کر رہے ہوتے ہیں۔
آپ کی ڈیجیٹل پرائیویسی خطرے میں کیوں ہے؟
- ڈیٹا لیک کی اطلاع کی پابندی نہیں: اگر کوئی کمپنی آپ کا ڈیٹا کھو دیتی ہے، تو وہ آپ کو بتانے کی قانونی طور پر پابند نہیں ہے۔
- 'بھول جانے کا حق': آپ کے پاس فی الحال ایسی کوئی قانونی طاقت نہیں ہے کہ آپ کسی کمپنی سے اپنا پروفائل ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کر سکیں۔
- ڈیٹا کی خودمختاری: قانون نہ ہونے کی وجہ سے اس بات پر کوئی سختی نہیں ہے کہ سرورز کہاں ہونے چاہئیں یا ڈیٹا سرحد پار کیسے منتقل ہوگا۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
جب تک کوئی باقاعدہ قانون نہیں بنتا، آپ کو اپنے ڈیجیٹل فٹ پرنٹ کو ہائی رسک سمجھنا چاہیے۔ اپنے اسمارٹ فون کی پرمیشنز چیک کریں؛ دیکھیں کہ کون سی ایپس آپ کے کانٹیکٹس، کیمرے اور لوکیشن تک رسائی رکھتی ہیں۔ اگر ضرورت نہ ہو تو انہیں آف کر دیں۔ اس کے علاوہ، اپنا شناختی کارڈ نمبر یا فون نمبر پبلک فورمز پر شیئر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ کسی بھی فراڈ کی صورت میں آپ کے پاس قانونی چارہ جوئی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
آگے کیا ہوگا؟
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT) کی ویب سائٹ پر نظر رکھیں کہ آیا پارلیمنٹ کے اگلے سیشن میں اس پر کوئی پیش رفت ہوتی ہے۔ جب تک حکومت پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کو قومی سلامتی کا مسئلہ نہیں سمجھے گی، تب تک اپنی شناخت کے تحفظ کی ذمہ داری مکمل طور پر آپ پر عائد ہوتی ہے۔
