بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان کی معاشی پالیسیوں میں پبلک ویلتھ کا حساب کتاب سب سے بڑا اندھا دھند نقطہ بن چکا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے گورন্যান্স اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ برائے پاکستان میں ایک ایسے اہم پالیسی خلیج کی نشان دہی کی گئی ہے جو بڑے مالیاتی اثرات کے باوجود عوامی توجہ حاصل نہیں کر سکا۔ جب اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے دفاتر میں ٹیکس کی شرح، بجلی کے ٹیرف اور ضمنی بجٹوں پر بحث جاری ہوتی ہے، تو دوسری طرف ریاستی ملکیتی تجارتی اثاثوں کی اصل بیلنس شیٹ کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
قومی بیلنس شیٹ میں نظر انداز کیے جانے والے حقائق
وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے معاشی منتظمین طویل عرصے سے صرف کیش فلو یعنی ٹیکس وصولی کے اہداف، قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر توجہ مرکوز رکھتے آئے ہیں۔ تاہم، عوامی دولت صرف ٹیکس رسیدوں تک محدود نہیں ہے۔ اس میں تجارتی نوعیت کی جائیدادیں، منافع بخش اداروں میں سرکاری حصص، انفراسٹرکچر کے نیٹ ورکس اور قدرتی وسائل کے حقوق شامل ہیں۔ ان سرکاری اثاثوں کی شفاف رجسٹری کے بغیر مالیاتی اصلاحات ادھوری رہتی ہیں۔ آپ اس چیز کا انتظام نہیں کر سکتے جسے آپ نے گنا نہ ہو، اور پے در پے آنے والی حکومتیں اس بات کی شفاف فہرست بنانے میں ناکام رہی ہیں کہ دراصل ریاست کس کس چیز کی مالکانہ حیثیت رکھتی ہے۔
- سرکاری ادارے جو اربوں کا نقصان اٹھا رہے ہیں لیکن قیمتی رئیل اسٹیٹ پر قابض ہیں
- وفاقی اور صوبائی محکموں کے زیر انتظام تجارتی زمینیں
- قدرتی وسائل کے وہ ٹھیکے جو بغیر کسی قومی حساب کتاب کے دیے گئے
اثاثہ جات کے انتظام کے بغیر مالیاتی اصلاحات ناکام کیوں ہوتی ہیں
پاکستان کا عام شہری بھاری بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے کیونکہ حکومت قرض لینے اور ٹیکس بڑھانے کو ہی اپنا واحد مالیاتی ہتھیار سمجھتی ہے۔ اگر عوامی دولت کی مناسب فہرست سازی کی جائے اور اسے شفاف فریم ورک کے تحت استعمال یا مانیٹائز کیا جائے، تو تنخواہ دار طبقے اور رجسٹرڈ کاروباروں پر دباؤ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، وزارتیں سرکاری اثاثوں کو تجارتی سرمائے کے بجائے ذاتی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ آئی ایم ایف کی تشخیصی رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ نظامی کمزوریاں ان اثاثوں کو پائیدار غیر ٹیکس آمدنی پیدا کرنے سے روکتی ہیں، جس کی وجہ سے قومی خزانہ بیرونی جھٹکوں کے سامنے ہمیشہ غیر محفوظ رہتا ہے۔
حکومت کو اب کیا کرنا چاہیے
اس گمشدہ کڑی کو درست کرنے کے لیے وفاقی کابینہ اور فیڈرل بورڈ آف ریوینو (এফবিআর) سمیت متعلقہ اداروں کو فوری انتظامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حکام کے لیے لازمی ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ کے معیارات کے مطابق پبلک سیکٹر کی بیلنس شیٹ کا جامع آڈٹ کروائیں۔ اس کے علاوہ، موجودہ مالی سال کے اختتام تک تمام تجارتی ریاستی اثاثوں کے لیے پارلیمنٹ کو سخت ترین انکشافی قوانین منظور کرنے چاہئیں۔ ان ساختی اقدامات کے بغیر، کوئی بھی آئیں بائیں شائیں کا بیل آؤٹ پیکج عام ٹیکس دہندہ کو نچوڑنے کے اسی پرانے چکر کو دہراتا رہے گا جبکہ ریاستی دولت غیر پیداواری جمود کا شکار رہے گی۔
