پاکستان میں محدود کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ مقامی کمپنیوں کے لیے طویل مدتی فنانسنگ کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ اس وجہ سے نجی شعبے کے پاس یا تو مہنگے بینک قرضوں پر انحصار کرنے یا اپنے توسیعی منصوبوں کو روکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ یہ ساختی مسئلہ ایک ایسے وقت میں برقرار ہے جب عالمی مالیاتی ادارے ملک کو نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی کی طرف راغب کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
جبکہ حکومت اپنے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے ملکی مالیاتی نظام پر حاوی ہے، نجی کارپوریشنز بانڈ مارکیٹ سے باہر ہو چکی ہیں۔ کارپوریٹ بانڈز کی عدم موجودگی کے باعث پاکستانی اداروں کے لیے بڑے منصوبوں، انفراسٹرکچر کی ترقی، یا طویل مدتی صنعتی توسیع کے لیے فنڈز حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
پاکستان کے کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ کے اہم حقائق
- مارکیٹ کا انتہائی چھوٹا سائز: کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ پاکستان کی جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ ایشیا کی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں یہ شرح 20 فیصد سے زائد ہے۔
- حکومتی قرضوں کا غلبہ: کمرشل بینک اپنے سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ حکومت کے ٹریژری بلز (T-Bills) اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) میں لگاتے ہیں۔
- ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کا موقف: اے ڈی بی کے نائب صدر یانگ نے حال ہی میں اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے میکرو اکنامک استحکام کی تعریف کی لیکن نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔
- ریگولیٹری رکاوٹیں: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی اصلاحات کے باوجود، بانڈز کے اجراء کے بھاری اخراجات اور کریڈٹ ریٹنگ کی سخت شرائط کمپنیوں کے لیے رکاوٹ ہیں۔
پاکستان میں کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ کیوں فعال نہیں ہو سکی؟
دہائیوں سے پاکستان کا مالیاتی شعبہ حکومتی قرضوں کی طرف جھکا ہوا ہے۔ جب وفاقی حکومت کو بڑے مالیاتی خسارے کا سامنا ہوتا ہے، تو وہ براہ راست تجارتی بینکوں سے قرض لیتی ہے۔ چونکہ حکومت اپنے بانڈز پر پرکشش اور خطرے سے پاک منافع پیش کرتی ہے، اس لیے بینکوں کے پاس نجی شعبے کو قرض دینے کی کوئی خاص ترغیب نہیں ہوتی۔
اس صورتحال نے کارپوریٹ بانڈز کی سیکنڈری مارکیٹ کو مکمل طور پر غیر فعال کر دیا ہے۔ اگر کوئی نجی کمپنی ٹرم فنانس سرٹیفکیٹ (TFC) جاری کرنا چاہتی ہے، تو اسے حکومتی بانڈز کے برابر یا اس سے زیادہ شرح سود کی پیشکش کرنی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف چند بڑے کاروباری گروپ ہی مقامی ڈیٹ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہے ہیں۔
لاہور، کراچی یا سیالکوٹ کے عام تاجر کے لیے کارپوریٹ بانڈز کے ذریعے 50 کروڑ سے 1 ارب روپے جمع کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ انہیں مجبوراً بینکوں کے شارٹ ٹرم لونز پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جن کی شرح سود اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ کے ساتھ بدلتی رہتی ہے اور کاروبار کو شدید مالی خطرات سے دوچار کرتی ہے۔
نجی شعبے کے لیے اب کیا راستے کھلے ہیں؟
اگر آپ پاکستان میں کوئی درمیانہ یا بڑا کاروبار چلا رہے ہیں اور آپ کو توسیع کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے، تو ڈیٹ مارکیٹ کے بہتر ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے درج ذیل اقدامات کریں:
- جی ای ایم (GEM) بورڈ کا استعمال کریں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کا گروتھ انٹرپرائز مارکیٹ بورڈ چھوٹی کمپنیوں کے لیے آسان شرائط پر سرمایہ اکٹھا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
- کمرشل پیپر کا اجراء: ایک سال تک کی قلیل مدتی مالیاتی ضروریات کے لیے کمرشل پیپر جاری کرنے پر غور کریں۔ ایس ای سی پی نے اس کے قواعد کو آسان بنا دیا ہے، جس سے یہ روایتی بینک قرضوں سے سستا پڑتا ہے۔
- اسٹیٹ بینک کی ری فنانسنگ اسکیمیں: اپنے کمرشل بینک سے اسٹیٹ بینک کی رعایتی اسکیموں کے بارے میں معلومات حاصل کریں، جو خاص طور پر صنعتی توسیع، قابل تجدید توانائی اور برآمدی مشینری کے لیے دستیاب ہیں۔
- کارپوریٹ گورننس کو بہتر بنائیں: مستقبل میں بانڈز جاری کرنے کے لیے اپنی کمپنی کی کریڈٹ ریٹنگ کی تیاری شروع کریں۔ پی اے سی آر اے (PACRA) یا وی آئی ایس (VIS) سے اچھی ریٹنگ حاصل کرنے سے قرض حاصل کرنے کی لاگت نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔
آنے والے وقت میں کیا دیکھا جائے؟
آنے والے مہینوں میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مانیٹری پالیسی فیصلوں پر نظر رکھیں۔ اگر اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں مزید کمی کرتا ہے، تو حکومتی ٹی بلز پر منافع کم ہو جائے گا۔ اس سے کمرشل بینکوں پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ نجی شعبے کو قرضے دیں، جس سے کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ میں دوبارہ جان پڑ سکتی ہے۔
مزید برآں، ایس ای سی پی اور پی ایس ایکس کی جانب سے بانڈز کی لسٹنگ کے اخراجات کو کم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیں۔ اگر حکومت موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنے مالیاتی خسارے کو کم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو بینکوں سے اس کا قرض لینا کم ہو جائے گا، جس سے آخر کار نجی شعبے کو طویل مدتی سرمایہ مل سکے گا۔
