پاکستان میں remittances in pakistan کی مد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2024 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 3.6 ارب ڈالر وطن بھجوائے ہیں۔ یہ رقم گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا ردعمل
وزیراعظم شہباز شریف نے ترسیلاتِ زر میں اس اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اتنی بڑی مقدار میں زر مبادلہ بھیجنا ملکی معاشی استحکام کے لیے خوش آئند ہے۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ترسیلات ملکی معیشت کو سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
معیشت پر اثرات
ترسیلاتِ زر میں اضافے سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر پڑتا ہے، جس سے روپے کی قدر میں استحکام اور درآمدی بل کی ادائیگی میں آسانی ہوتی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو اس سے ملکی معیشت کو درپیش بیرونی دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
- کل موصول شدہ رقم: جولائی 2024 میں 3.6 ارب ڈالر۔
- شرح نمو: گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ۔
- معاشی اثر: ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ بیرونِ ملک مقیم ہیں، تو ہمیشہ قانونی بینکنگ چینلز یا مجاز منی ٹرانسفر کمپنیوں کے ذریعے رقم بھجوائیں۔ ہنڈی یا حوالہ جیسے غیر قانونی ذرائع سے گریز کریں کیونکہ اس سے نہ صرف آپ کی رقم غیر محفوظ ہو سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ قانونی ذرائع سے بھیجی گئی رقم براہ راست ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا حصہ بنتی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
آنے والے مہینوں میں اس رجحان کے تسلسل پر سب کی نظریں ہیں۔ حکومت کی جانب سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ترسیلاتِ زر کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ مزید معلومات اور ماہانہ اعداد و شمار کے لیے آپ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ www.sbp.org.pk وزٹ کر سکتے ہیں۔ معاشی ماہرین اگست اور ستمبر کے اعداد و شمار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ معاشی سمت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
