سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) نے 37.13 ارب روپے کے پاکستان اسپیس سینٹر پروجیکٹ کو حتمی منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ECNEC) کو بھیج دیا ہے۔ یہ اقدام ملک میں خلائی تحقیق اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدید سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
پاکستان اسپیس سینٹر پروجیکٹ کی تفصیلات
یہ منصوبہ سپارکو (SUPARCO) کے زیر انتظام مکمل کیا جائے گا، جس کا مقصد سیٹلائٹ کی تیاری، خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل کرنا ہے۔ 37.13 ارب روپے کی خطیر رقم سے بننے والا یہ مرکز ملکی سطح پر خلائی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔ سی ڈی ڈبلیو پی نے منصوبے کی تکنیکی افادیت اور طویل مدتی معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے بعد اسے ای سی این ای سی کے پاس بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔
قومی معیشت پر اثرات
اس منصوبے کا مقصد نہ صرف خلائی ٹیکنالوجی میں خود مختاری حاصل کرنا ہے بلکہ انجینئرنگ اور ڈیٹا سائنس کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔ اس کے ذریعے ٹیلی کمیونیکیشن، موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی اور زرعی شعبے میں سیٹلائٹ ڈیٹا کے استعمال کو بہتر بنایا جائے گا۔ اگر ای سی این ای سی اس کی منظوری دے دیتا ہے، تو اس منصوبے پر کام مختلف مراحل میں شروع کیا جائے گا تاکہ مالیاتی دباؤ کو قابو میں رکھا جا سکے۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
اب جبکہ پروجیکٹ کی فائل ای سی این ای سی کے پاس ہے، وزیر خزانہ کی سربراہی میں اس کی حتمی مالیاتی جانچ کی جائے گی۔ اگر آپ پاکستان اسپیس سینٹر پروجیکٹ کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تو آپ کو ای سی این ای سی کے آئندہ اجلاسوں کے فیصلوں کا انتظار کرنا ہوگا۔ اس مرحلے کے بعد منصوبے کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں باقاعدہ شامل کیا جائے گا۔
فی الحال تعمیراتی کام کے آغاز کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی ہے۔ شہریوں کو وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری ہونے والی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ منصوبے کے نفاذ کے شیڈول اور مقامی ٹھیکیداروں کے لیے مواقع کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکیں۔
