بین الاقوامی موسمیاتی اداروں کی جانب سے ایل نینو کے اثرات مزید شدت اختیار کرنے کی وارننگ کے بعد پاکستان میں سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔ ملک کے بالائی علاقوں اور دریاؤں کے بیسن میں اچانک سیلابی ریلوں کے خطرے کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہنگامی پلان پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے رواں ہفتے موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے خبردار کیا تھا کہ غیر معمولی موسمیاتی دباؤ کے باعث شمالی حصوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہو سکتی ہیں۔ عام شہریوں، بالخصوص ندی نالوں کے قریب یا پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیاری رکھیں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔

شمالی علاقوں میں سیلاب کے خطرات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے

ایل نینو کے تسلسل کی وجہ سے خطے میں ہوا کے دباؤ اور بحیرہ عرب سے آنے والی نمی کے تناسب میں تبدیلیاں آتی ہیں، جو اکثر پاکستان کے شمالی پہاڑی سلسلوں کی طرف بادلوں کے دباؤ کو بڑھا دیتی ہیں۔ جب یہ نمی سے بھرپور ہوائیں دشوار گزار پہاڑی سلسلوں سے ٹکراتی ہیں تو چند گھنٹوں میں بادل پھٹنے یا شدید بارش کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ سوات، چترال اور گلگت بلتستان کے ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ کس طرح خشک نالے چند لمحوں میں خطرناک سیلابی ریلوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ حفاظتی بندوں کا معائنہ کر رہی ہے، تاہم موسم کی غیر یقینی صورتحال کے باعث درست پیشگوئی کرنا چیلنج بنا ہوا ہے۔

وفاقی اور صوبائی محکمے کیا اقدامات کر رہے ہیں

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ارلی وارننگ سسٹمز کو فعال کرتے ہوئے پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ کے صوبائی اداروں کے ساتھ رابطہ مضبوط کر لیا ہے تاکہ ہنگامی رسپانس ٹیمیں الرٹ رہیں۔ حکام مندرجہ ذیل امور پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں:

  • بڑے شہروں میں بارش کے پانی کی نکاسی کے نالوں کی صفائی تاکہ شہری سیلاب سے بچا جا سکے۔
  • شمالی علاقوں کے دور دراز مراکز میں صاف پانی، خشک راشن اور ادویات کا ذخیرہ کرنا۔
  • دریاؤں کے پانی کی سطح اور بارش سے ہونے والے نقصان کی بروقت اطلاع کے لیے ہیلپ لائنز کا قیام۔
  • خطرناک دیہی بستیوں میں انخلا کی فرضی مشقیں منعقد کرنا۔

ان انتظامی اقدامات کے باوجود نقادوں کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں نکاسی آب کا نظام تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے پیچھے ہے، جس کی وجہ سے ہلکی بارشوں میں بھی گلیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔

شہریوں کو اپنی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے

اگر آپ نش نشین علاقوں یا موسمی نالوں کے قریب رہائش پذیر ہیں تو انتظامیہ کے آخری احکامات کا انتظار نہ کریں۔ اپنے اہم دستاویزات، فرسٹ ایڈ کٹ، ٹارچ اور کم از کم تین دن کا راشن ایک ہنگامی بیگ میں محفوظ کر لیں۔ اپنے گھر کی چھت کے پرنالے اور نالیاں فوری طور پر صاف کریں، اور بارش کاپانی جمع ہونے کی صورت میں قیمتی سامان یا الیکٹرانک اشیاء کو اونچی جگہ منتقل کر دیں۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر دھیان دینے کے بجائے صرف مستند سرکاری ذرائع اور موسم کی تازہ ترین رپورٹس پر بھروسہ کریں۔

آنے والے ہفتوں میں کن امور پر نظر رکھنی ہوگی

محکمہ موسمیات اور تربیلہ و منگلا ڈیمز کے آبی ذخائر سے متعلق رپورٹس پر کڑی نظر رکھیں۔ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ کا اچانک بڑھنا ہی اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ نشیبی علاقوں میں کس نوعیت کے ہنگامی اقدامات درکار ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے ڈیزاسٹر ریلیف کمیٹیوں کو فنڈز کی فراہمی سے یہ واضح ہوگا کہ کاغذی تیاریاں زمینی حقائق پر کتنی کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔