وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان تاحال فلاحی ریاست بننے سے بہت دور ہے، جو کہ ملک کے قیام کا بنیادی مقصد تھا۔ وزیراعظم کا یہ بیان ملکی معاشی صورتحال اور حکومتی ترجیحات کے حوالے سے ایک اہم اعتراف سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان میں فلاحی ریاست کا خواب اور زمینی حقائق
ایک عام پاکستانی کے لیے فلاحی ریاست کا مطلب معیاری صحت کی سہولیات، سستی تعلیم اور مہنگائی کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی ڈھال ہے۔ وزیراعظم کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کو درپیش معاشی مشکلات عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
- موجودہ چیلنجز: ہوشربا مہنگائی اور تنخواہوں میں جمود۔
- حکومتی ترجیحات: فی الحال حکومت کا زور قرضوں کی واپسی اور مالیاتی استحکام پر ہے۔
- عوامی ردعمل: شہری یوٹیلیٹی بلوں میں کمی اور روزگار کے مواقع کے منتظر ہیں۔
اگرچہ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات کا ذکر کرتی ہے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ وقتی ریلیف تو ہو سکتے ہیں، مگر ایک منظم فلاحی معیشت کے لیے یہ کافی نہیں ہیں۔ وزیراعظم کا یہ اعتراف اس بات کو واضح کرتا ہے کہ حکومت کو معلوم ہے کہ موجودہ حکمرانی اور آئینی تقاضوں کے درمیان ایک بڑا خلا موجود ہے۔
ترقی کیوں رکی ہوئی ہے؟
معاشی استحکام اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے انسانی ترقی کے شعبوں کے لیے بہت کم فنڈز بچتے ہیں۔ جب تک حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع نہیں کرتی اور غیر ضروری اخراجات میں کٹوتی نہیں کرتی، تب تک ایک حقیقی فلاحی ریاست کا قیام مشکل نظر آتا ہے۔
شہریوں کے لیے دیکھنے والی بات
آنے والے وفاقی بجٹ اور ٹیکس پالیسیوں میں ہونے والی تبدیلیاں اس بات کا تعین کریں گی کہ کیا حکومت واقعی عوامی فلاح کی طرف بڑھ رہی ہے یا نہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ حکومتی اخراجات اور معاشی فیصلوں پر گہری نظر رکھیں، کیونکہ انہی فیصلوں سے یہ طے ہوگا کہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری کب اور کیسے آئے گی۔
