پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں اس ہفتے شدید مندی دیکھی گئی اور دو دنوں کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 2,700 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث سرمایہ کاروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ کے تمام بڑے سیکٹرز میں فروخت کا بھاری دباؤ دیکھا گیا۔
ہفتے کے آغاز پر ہی مارکیٹ کو شدید دھچکا لگا جب پیر کے روز انڈیکس 1,600 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔ یہ مندی اگلے دن بھی برقرار رہی اور منگل کو بھی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی۔ معاشی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال اور مقامی معیشت کے حوالے سے خدشات اس مندی کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے اہم نکات
- دو روزہ مجموعی نقصان: پیر اور منگل کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر تقریباً 2,692 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔
- پیر، 15 اپریل 2024: کاروباری ہفتے کے پہلے روز انڈیکس 1,692 پوائنٹس گر کر بند ہوا۔
- منگل، 16 اپریل 2024: منگل کے روز مارکیٹ مزید 1,000 پوائنٹس گر گئی، جس کے بعد معمولی ریکوری ہوئی لیکن مارکیٹ گراوٹ کے ساتھ ہی بند ہوئی۔
- بنیادی وجہ: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔
- متاثرہ شعبے: ٹیکنالوجی، انرجی، کمرشل بینک اور سیمنٹ سیکٹر کے شیئرز کی قیمتوں میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔
اسٹاک مارکیٹ میں اس اچانک مندی کی وجہ کیا ہے؟
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اچانک آنے والی اس گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ مشرق وسطیٰ کا بحران ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اپنے حصص فروخت کر کے نقد رقم بچانے کو ترجیح دی۔
پاکستان چونکہ اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت، روپے کی قدر اور افراط زر پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اس کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کی معاشی بحالی کا عمل سست پڑ سکتا ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پیر اور منگل کی کاروباری کارکردگی کی تفصیلات
مارکیٹ میں گراوٹ کا سلسلہ پیر، 15 اپریل 2024 کو شروع ہوا جب مارکیٹ کھلتے ہی انڈیکس سرخ نشان میں چلا گیا۔ بڑے سرمایہ کاروں اور اداروں کی جانب سے مسلسل فروخت کے باعث دن کے اختتام پر انڈیکس 1,692 پوائنٹس گر گیا۔ اس گراوٹ نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والے فائدے کو چند ہی گھنٹوں میں ختم کر دیا۔
منگل، 16 اپریل 2024 کو بھی مارکیٹ سنبھل نہ سکی اور آغاز سے ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ منگل کے روز کے ایس ای 100 انڈیکس مزید 1,000 پوائنٹس گر گیا۔ اگرچہ دوپہر کے وقت کچھ شیئرز کی قیمتیں کم ہونے پر خریداری دیکھی گئی، لیکن مجموعی طور پر مارکیٹ دباؤ میں ہی رہی۔ میوچل فنڈز اور عام سرمایہ کاروں نے اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کے لیے شیئرز فروخت کیے۔
مشرق وسطیٰ کے تناؤ کے پاکستانی مارکیٹ پر اثرات
جب بھی عالمی سطح پر جنگی حالات پیدا ہوتے ہیں، سرمایہ کار ترقی پذیر ممالک کی مارکیٹوں سے اپنا سرمایہ نکال کر محفوظ اثاثوں جیسے ڈالر اور سونے میں منتقل کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں سیمنٹ، اسٹیل اور آٹو موبائل جیسے شعبے براہ راست توانائی کی قیمتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر تیل اور گیس مہنگی ہوتی ہے تو ان کمپنیوں کے اخراجات بڑھ جائیں گے اور ان کا منافع کم ہو جائے گا، یہی وجہ ہے کہ ان سیکٹرز کے شیئرز میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی۔
سرمایہ کاروں کے لیے اہم مشورے
موجودہ حالات میں عام سرمایہ کاروں کو جلد بازی میں فیصلے کرنے کے بجائے درج ذیل باتوں پر عمل کرنا چاہیے:
- گھبراہٹ میں شیئرز نہ بیچیں: مارکیٹ کی شدید مندی کے دوران نقصان میں شیئرز بیچنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مضبوط بنیادی ڈھانچہ رکھنے والی کمپنیوں کے شیئرز کو ہولڈ رکھیں۔
- محفوظ شعبوں کا انتخاب کریں: فرٹیلائزر اور پاور سیکٹر جیسی کمپنیاں جو اچھا ڈیویڈنڈ دیتی ہیں، ان میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں۔
- کیش پاس رکھیں: اگر آپ کے پاس نقد رقم موجود ہے تو مارکیٹ مستحکم ہونے پر کم قیمتوں میں اچھے شیئرز خریدنے کا بہترین موقع ملے گا۔
- سرکاری معلومات پر نظر رکھیں: کسی بھی افواہ پر کان دھرنے کے بجائے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے آفیشل پورٹل (dps.psx.com.pk) پر کمپنیوں کی رپورٹس دیکھیں۔
آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کیا ہوگی؟
آنے والے دنوں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا انحصار عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کے حالات پر ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے قرض پروگرام کے حوالے سے پیش رفت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کے فیصلے بھی مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔ جب تک ان معاملات پر صورتحال واضح نہیں ہوتی، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
