حکومت نے پورٹ قاسم میں گاڑیوں کی ری فربشمنٹ (مرمت و بحالی) اور دوبارہ برآمد کے لیے 150 ایکڑ پر محیط ایک خصوصی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کے روز وزارتِ سمندری امور کی جانب سے جاری کردہ اعلان کے مطابق، اس منصوبے کا پہلا مرحلہ زمین کی الاٹمنٹ کے ساتھ شروع ہو چکا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو آٹوموٹیو سیکٹر کے لیے ایک علاقائی مرکز بنانا ہے۔

گاڑیوں کی ری فربشمنٹ کے مرکز کی تفصیلات

اس منصوبے کا بنیادی مقصد بیرون ملک سے پرانی گاڑیاں درآمد کرنا اور انہیں پورٹ قاسم کے اسی خصوصی مرکز میں دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر عالمی منڈیوں میں برآمد کرنا ہے۔ کسٹمز حکام نے اس نئے مرکز کے لیے آپریٹنگ طریقہ کار بھی جاری کر دیے ہیں، جس کے تحت اس سہولت کو نجی کمپنی 'ایم ایس فاسٹ ٹریک پروجیکٹس اینڈ لاجسٹکس' چلائے گی۔ یہ اقدام کسٹمز کے عمل کو آسان بنانے اور لاجسٹک اخراجات کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

یہ 150 ایکڑ پر محیط زمین ایک کسٹم پورٹ کے طور پر کام کرے گی، جہاں گاڑیوں کی درآمد اور برآمد کے لیے خصوصی قوانین کا اطلاق ہوگا۔ اس سے نہ صرف غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی توقع ہے بلکہ یہ پاکستان کی آٹوموٹیو انڈسٹری کو عالمی معیار کے قریب لانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

مقامی آٹوموٹیو سیکٹر پر اثرات

عام شہریوں اور کاروباری حضرات کے لیے یہ خبر اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ پاکستان میں گاڑیوں کی دیکھ بھال اور مرمت کے نئے معیارات متعارف کروا سکتی ہے۔ حکومتی سطح پر نجی شعبے کو شامل کرنے کا مقصد اس مرکز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق چلانا ہے۔

  • پہلا مرحلہ: زمین کی الاٹمنٹ اور سائٹ کی تیاری۔
  • انتظامیہ: ایم ایس فاسٹ ٹریک پروجیکٹس اینڈ لاجسٹکس کو کسٹم پورٹ چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔
  • مقصد: گاڑیوں کی بحالی کے بعد انہیں دوبارہ برآمد کرنا تاکہ تجارتی توازن کو بہتر بنایا جا سکے۔

آگے کیا ہوگا؟

اگر آپ آٹوموٹیو کے شعبے سے وابستہ ہیں، تو آپ کو ایف بی آر (FBR) کی جانب سے ان گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی کے حوالے سے جاری ہونے والے نئے کسٹم آرڈرز پر نظر رکھنی چاہیے۔ یہ مرکز مکمل طور پر برآمدات پر مرکوز ہے، تاہم اس کے مقامی مارکیٹ اور اسپیئر پارٹس کی دستیابی پر اثرات کا جائزہ لینا ابھی باقی ہے۔ مزید پیش رفت کے لیے وزارتِ سمندری امور کی سرکاری ویب سائٹ کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔