پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کو مستحکم کرنے اور ایندھن کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے پہلے کمرشل 'بانڈڈ آئل اسٹوریج' سسٹم کے قیام پر کام کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت خلیجی ممالک کے پروڈیوسرز اور عالمی تجارتی کمپنیاں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کر سکیں گی۔
بانڈڈ آئل اسٹوریج کی اہمیت
اس سسٹم کا بنیادی مقصد پاکستان کو ایک علاقائی انرجی ہب بنانا ہے۔ جب تک تیل ذخیرہ گاہوں میں رہے گا، اس پر کسٹم ڈیوٹی یا ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ یہ تیل بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کیا جا سکے گا یا بوقت ضرورت مقامی مارکیٹ میں سپلائی کیا جائے گا۔ پاکستان میں تیل کی قلت کے بحرانوں سے بچنے کے لیے یہ قدم انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اس اقدام سے نہ صرف پاکستان کی ایندھن کی سیکیورٹی بہتر ہوگی بلکہ ملکی بندرگاہوں پر ہینڈلنگ اور اسٹوریج کی مد میں قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔
حکومتی حکمت عملی
توانائی کی وزارت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اس منصوبے کے لیے قانونی فریم ورک تیار کر رہے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد خلیجی ممالک کے سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ پاکستان کو اپنے تیل کی ترسیل کے لیے ایک محفوظ گودام کے طور پر استعمال کر سکیں۔ 2024 کے اختتام تک حکومت اس منصوبے کے لیے بولیوں اور شرائط و ضوابط کا باضابطہ اعلان کر سکتی ہے۔
عام شہری پر کیا اثر پڑے گا؟
عام پاکستانی کے لیے اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ ایندھن کی سپلائی میں تسلسل ہے۔ اکثر اوقات عالمی منڈی میں سپلائی چین متاثر ہونے سے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر مقامی سطح پر تیل کا بڑا ذخیرہ موجود ہو، تو اچانک قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور قلت کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکے گا۔
آگے کیا ہوگا؟
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کی جانب سے جاری ہونے والی نئی ہدایات پر نظر رکھیں۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی تفصیلات اس منصوبے کی کامیابی کا تعین کریں گی۔ یہ دیکھنا بھی اہم ہوگا کہ حکومت اس انفراسٹرکچر کو موجودہ پائپ لائن نیٹ ورک سے کیسے جوڑتی ہے۔
