محکمہ موسمیات (PMD) نے تصدیق کی ہے کہ 2026 کا آخری سورج گرہن 12 اور 13 اگست کی درمیانی شب وقوع پذیر ہوگا، تاہم یہ فلکیاتی واقعہ پاکستان میں کہیں بھی دکھائی نہیں دے گا۔

اگرچہ دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات اس واقعے کے منتظر ہیں، لیکن محکمہ موسمیات کے مطابق اس گرہن کا راستہ پاکستان کے طول و عرض سے نہیں گزر رہا۔ پاکستان میں موجود شہری جو سورج گرہن 2026 کے حوالے سے معلومات کے خواہشمند ہیں، انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ فلکیاتی عمل مقامی وقت کے مطابق رات کے اوقات میں ہوگا، جس کی وجہ سے اسے یہاں سے دیکھنا ناممکن ہے۔

سورج گرہن 2026 پاکستان میں کیوں دکھائی نہیں دے گا؟

سورج گرہن جیسے فلکیاتی واقعات کا انحصار مکمل طور پر زمین، چاند اور سورج کی مخصوص مداروی پوزیشن پر ہوتا ہے۔ گرہن کو دیکھنے کے لیے مشاہدہ کرنے والے کا اس سائے میں ہونا ضروری ہے جو چاند زمین پر ڈالتا ہے۔

اگست 2026 کے اس واقعے میں، محکمہ موسمیات کے ڈیٹا کے مطابق چاند کا سایہ ان خطوں پر پڑے گا جہاں اس وقت رات ہوگی، یعنی پاکستانی وقت کے مطابق اس وقت سورج افق سے نیچے ہوگا۔ چاند گرہن کے برعکس، جسے اکثر رات کے وقت دیکھا جا سکتا ہے، سورج گرہن کے لیے دن کی روشنی اور مخصوص جغرافیائی پوزیشن کا ہونا لازمی ہے۔

محکمہ موسمیات کی ہدایات

محکمہ موسمیات پاکستان (PMD) ملک میں ہونے والے فلکیاتی واقعات کی نگرانی کرنے والا مرکزی ادارہ ہے۔ اگر آپ مستقبل میں ہونے والے گرہنوں اور دیگر فلکیاتی حرکات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ pmd.gov.pk پر ان کی آفیشل ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے طلباء اور فلکیات کے شوقین افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مستقبل کے واقعات کو ٹریک کرنے کے لیے ناسا یا دیگر بین الاقوامی خلائی ایجنسیوں کے مستند پورٹلز کا استعمال کریں۔ اگرچہ یہ مخصوص گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا، تاہم محکمہ باقاعدگی سے چاند دیکھنے اور سورج سے متعلقہ واقعات کے بارے میں ایڈوائزری جاری کرتا رہتا ہے۔

مستقبل کے فلکیاتی واقعات پر نظر رکھیں

اگرچہ اس اگست میں آپ سورج کو گہناتے ہوئے نہیں دیکھ سکیں گے، لیکن پاکستان میں اکثر دیگر فلکیاتی واقعات جیسے کہ شہابیوں کی بارش اور چاند گرہن دیکھے جا سکتے ہیں۔

آئندہ کے واقعات کے بارے میں اپ ڈیٹ رہنے کے لیے، محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ اور میڈیا بلیٹنز پر نظر رکھیں۔ یہ ادارہ ہمارے ٹائم زون کے لیے سب سے درست معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ آپ ان فلکیاتی لمحات سے محروم نہ رہیں جو پاکستان سے دیکھے جا سکتے ہیں۔