پاکستان اپنے توانائی کے شعبے کو جدید بنانے اور اسے ایک علاقائی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے غیر ملکی آئل سپلائرز کے لیے نیا گیٹ وے کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔ حکومت ایک ایسا کسٹمز بانڈڈ فریم ورک متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت بین الاقوامی سپلائرز اپنا ایندھن پاکستان میں ذخیرہ کر سکیں گے، جسے بعد ازاں مقامی منڈی میں فروخت یا دیگر ممالک کو برآمد کیا جا سکے گا۔

پاکستان میں آئل سیکٹر کی بہتری

اس پالیسی کا بنیادی مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جہاں بین الاقوامی کمپنیاں درآمدی ڈیوٹی ادا کیے بغیر اپنا ایندھن پاکستان میں رکھ سکیں۔ پاکستان میں آئل سیکٹر کے لیے یہ اقدام طویل مدتی بنیادوں پر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے سپلائی چین میں حائل رکاوٹیں کم ہوں گی۔

  • کسٹمز بانڈڈ سہولت: سپلائرز کو ایندھن مقامی مارکیٹ میں لانے تک بھاری ٹیکسوں کی ادائیگی سے استثنیٰ ملے گا۔
  • برآمدی صلاحیت: پاکستان اس اقدام کے ذریعے خطے کے دیگر ممالک کے لیے ایندھن کی ترسیل کا مرکز بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔
  • مقابلہ بازی: بین الاقوامی کمپنیوں کی آمد سے مقامی مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی، جس کا فائدہ براہ راست صارفین کو پہنچ سکتا ہے۔

توانائی کی سیکیورٹی پر اثرات

ماضی میں پاکستان کو ایندھن کی قلت اور سپلائی چین کے بحرانوں کا سامنا رہا ہے۔ غیر ملکی سپلائرز کو مقامی سطح پر اسٹاک رکھنے کی اجازت دے کر حکومت عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور مقامی سطح پر ایندھن کی کمی کے خلاف ایک بفر بنانا چاہتی ہے۔ اس منصوبے کے لیے وزارت توانائی اور نجی اسٹوریج کمپنیوں کے درمیان شراکت داری متوقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی پاکستان کو بین الاقوامی تجارتی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے لاگو ہوتا ہے تو اس سے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں تسلسل رہے گا اور سپلائی میں خلل کے باعث ہونے والے اچانک قیمتوں کے اضافے سے بچا جا سکے گا۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ لاجسٹکس یا توانائی کے شعبے سے وابستہ ہیں، تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ یہ ادارے اس پالیسی کے مالیاتی اور ٹیکس فریم ورک کو کنٹرول کریں گے۔ اس کے علاوہ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں، کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جہاں سے اسٹوریج سہولیات کے لیے ٹینڈرز کی تفصیلات سامنے آئیں گی۔