کراچی میں بدھ کے روز پاکستان نے میری ٹائم سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے ایک متحد ٹرانسم شپمنٹ مراعاتی پیکج کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک کی بڑی بندرگاہوں پر علاقائی شپنگ ٹریفک کو راغب کرنا ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر کارگو ہینڈلنگ اور پورٹ چارجز میں خصوصی رعایتیں دی جا رہی ہیں تاکہ بین الاقوامی شپنگ لائنز پاکستانی بندرگاہوں کا رخ کریں۔
کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر نئی مراعات
پاکستان میں ٹرانسم شپمنٹ مراعات کا یہ پیکج بدھ کے روز متعارف کرایا گیا، جو ملک کی دونوں بڑی بندرگاہوں یعنی کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم اتھارٹی پر یکساں طور پر نافذ ہوگا۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ علاقائی کارگو جو پہلے دوسری غیر ملکی بندرگاہوں کا استعمال کرتا تھا، اسے کم لاگت پر پاکستانی روٹس کی طرف منتقل کیا جا سکے۔
اس پیکج کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
- کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر کارگو ہینڈلنگ چارجز میں نمایاں کمی
- بندرگاہوں کے پورٹ ڈیوٹی اور دیگر اخراجات پر خصوصی ڈسکاؤنٹ
- علاقائی شپنگ کمپنیوں اور میری ٹائم لائنز کے لیے آسان طریقہ کار
- بین الاقوامی میری ٹائم مارکیٹ میں مسابقت بڑھانے کے لیے یکساں پالیسی
معیشت اور میری ٹائم سیکٹر پر اثرات
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کو خاطر خواہ تقویت ملے گی اور قومی خزانے کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کے نئے ذرائع پیدا ہوں گے۔ جب شپنگ لائنز پاکستانی بندرگاہوں کو اپنے ٹرانسم شپمنٹ ہب کے طور پر استعمال کریں گی، تو اس سے نہ صرف پورٹ کی آمدنی بڑھے گی بلکہ لاجسٹکس، گوداموں اور سپلائی چین کے شعبوں میں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
آپ کو بحیثیت شہری یا کاروباری شخصیت کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کا تعلق امپورٹ، ایکسپورٹ یا میری ٹائم لاجسٹکس کے شعبے سے ہے، تو آپ کو فوری طور پر اپنے شپنگ کنسلٹنٹس سے رابطہ کرنا چاہیے۔ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کی آفیشل ویب سائٹس کا دورہ کریں تاکہ ان نئی رعایتوں سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ کار جان سکیں اور اپنے کارگو کی نقل و حرکت کی منصوبہ بندی اسی حساب سے کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
آنے والے ہفتوں میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کتنی بین الاقوامی شپنگ لائنز نے اس پیشکش پر مثبت ردعمل دیا ہے۔ متعلقہ وزارت اور پورٹ حکام جلد ہی اس پیکج کے تفصیلی ایس او پیز جاری کریں گے، جن سے یہ واضح ہوگا کہ مختلف نوعیت کے کارگو پر یہ رعایتیں عملی طور پر کیسے لاگو ہوں گی۔
