پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں بھارت کی جانب سے کی جانے والی آبادیاتی تبدیلیوں (demographic engineering in IIOJK) کو فوری طور پر روکے۔ اسلام آباد نے خبردار کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب مستقل طور پر تبدیل کرنے کے لیے منظم کوششیں کر رہا ہے تاکہ کشمیر پر اپنے قبضے کو ناقابلِ تنسیخ بنایا جا سکے۔
آبادیاتی تبدیلیوں کا سنگین بحران
اقوام متحدہ میں پاکستانی سفارت کاروں نے واضح کیا کہ بھارتی حکومت غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کر کے اور زمین کی ملکیت کے قوانین میں یکطرفہ تبدیلیاں لا کر علاقے کی آبادی کا ڈھانچہ بدل رہی ہے۔ اس کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے تاکہ ان اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بے اثر کیا جا سکے جن کے تحت کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا ہے۔
پاکستان نے زور دیا ہے کہ یہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو کسی بھی قابض طاقت کو اپنے شہریوں کو مقبوضہ علاقے میں منتقل کرنے سے منع کرتا ہے۔
جاری مظالم اور انسانی حقوق کی صورتحال
آبادیاتی تبدیلیوں کے علاوہ، سلامتی کونسل کو دی گئی بریفنگ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بھی اجاگر کیا گیا۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35A کے خاتمے کے بعد سے، خطہ مسلسل سیکیورٹی کریک ڈاؤن کی زد میں ہے۔ رپورٹ میں درج ذیل نکات نمایاں کیے گئے ہیں:
- سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی بلاجواز گرفتاریاں۔
- نگرانی اور دھمکیوں کے ذریعے پریس کی آزادی کا گلا گھونٹنا۔
- کشمیری نوجوانوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال۔
- مذہبی آزادیوں پر پابندیاں اور مقامی ثقافتی شناخت کو مٹانے کی کوششیں۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں
عام پاکستانی کے لیے یہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، کیونکہ اس کا مقصد عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم سے غافل نہ ہونے دینا ہے۔ پاکستان مسلسل سلامتی کونسل کو متحرک کر رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر اس مسئلے کو 'نارمل' قرار دینے کی بھارتی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
اب تمام تر نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا سلامتی کونسل اس معاملے پر کوئی باقاعدہ اجلاس بلاتی ہے یا نہیں۔ سفارتی مبصرین کے مطابق، پاکستان کی جانب سے عالمی مبصرین کے ایک آزاد وفد کو مقبوضہ علاقے میں بھیجنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دفتر سے آنے والے بیانات اس معاملے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔
